آگ لگنے کے ایک اور واقعے کے بعد پشاور بی آر ٹی سروس معطل

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا—فوٹو: ڈان
واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا—فوٹو: ڈان

پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس کی ایک اور بس میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد اس کے بیڑے کی جانچ کے لیے سروس کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔

حالیہ واقعہ 13 اگست سے طویل انتظار کے بعد شروع ہونے والی بس ٹرانزٹ سروس میں اس طرح کا چوتھا واقعہ تھا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ریسکیو 1122 نے اپنے بیان میں کہا کہ بس نے حیات آباد کے علاقے میں سنڈے بازار کے قریب آگ پکڑی، تاہم ریسکیو ورکرز نے فوری طور پر آگ کو بجھا دیا اور وہاں کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان نے بی آر ٹی پشاور کا افتتاح کردیا

امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ آگ ایئر کنڈینشنگ ڈپارٹمنٹ میں شروع ہوئی اور اسے کاربن ڈائی اوکسائڈ کے استعمال سے بجھا دیا گیا۔

سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں شیئر ہونے والی ویڈیو فوٹیجز میں بس سے کافی زیادہ دھواں نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔

ادھر اس سروس کے آپریشن کے لیے ذمہ دار حکومتی کمپنی ٹرانس پشاور نے ابتدائی بیان میں آگ کو 'ایک چنگاری' قرار دیا 'جسے فوری طور پر بھجادیا گیا'۔

تاہم اندازہ ہونے کے بعد کمپنی نے فوری طور پر ایک اور بیان جاری کیا جس میں اس بیڑے کی جانچ کے لیے بس سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا گیا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کے تمام بیڑوں کا اچھے طریقے سے معائنہ کیا جائے گا۔

مذکورہ کمپنی کے مطابق مسافروں کی حفاظت سب سے اولین ترجیح ہے اور یہ فیصلہ عوام کے بہتر مفاد میں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بی آر ٹی پشاور، 6 ماہ کا وعدہ 3 سال میں مکمل

بیان میں مزید کہا گیا کہ بس بنانے والوں کی ٹیم تمام گاڑیوں کا تفصیل سے معائنہ کرے گی، ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا کہ آگ لگنے کے گزشتہ 2 واقعات کی تحقیقات پہلے ہی جاری ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ مینوفیکچررز کی جانب سے ایک مرتبہ تمام بسوں کے لیے تکنیکی کلیئرنس ملنے کے بعد بس سروس کو بحال کردیا جائے گا۔

علاوہ ازیں کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے بدقسمت واقعات کے مستقل حل کے لیے مینوفکچررز نے بھی مشورہ دیا تھا کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کیا جائے۔


یہ خبر 17ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی