'تعلقات معمول پر لانے کیلئے بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی کارروائیاں بند کرے'

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

دونوں ممالک کے مابین بالخصوص لائن آف کنٹرول پر سخت تناؤ بھی برقرار ہے—فائل فوٹو: اے پی پی
دونوں ممالک کے مابین بالخصوص لائن آف کنٹرول پر سخت تناؤ بھی برقرار ہے—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت نے تعلقات معمول پر لانے کے قابل ماحول بنانے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کردی۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ 'بھارت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو منسوخ، کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی ختم کرکے اور مسئلہ کشمیر عالمی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کر کے ایک قابل عمل ماحول قائم کرے'۔

دوسری جانب یہ بحث کہ تعلقات کی بحالی کے لیے کسے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تو بھارتی وزیر خارجہ وی مرلی دھرن نے راجیہ سبھا میں چھیڑی اور ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'ایک سازگار ماحول قائم کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی رپورٹ میں پاک-بھارت مذاکرات کے امکانات کا جائزہ پیش

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ مذاکرات سال 2013 سے معطل ہیں۔

علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے بعد سے دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی نمائندگی کی سطح بھی ایک سال سے ایک درجے کم ہے۔

مزید برآں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کے ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں ملوث ہونے کے تنازع کے بعد جون میں دونوں ممالک نے اپنے سفارتی مشن کے حجم کو بھی نصف کردیا تھا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین بالخصوص لائن آف کنٹرول پر سخت تناؤ بھی برقرار ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا پر بھارت سے کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے پر زور

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'یہ بھارت ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور مستقل جارحانہ بیانات سے ماحول کو خراب کیا ہے'۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دو طرفہ رابطوں کے لیے پاکستان کی شرط بھارت کی جانب سے اس کا 'کشمیر کے حصوں پر غیر قانونی اور جبری قبضہ ختم اور بین الاقوامی قرادادوں پر عمل کرنا ہے'۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت، کشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت آزاد اور غیر جانبدار رائے دہی کے ذریعے اپنے بین الاقوامی وعدوں کے تحت کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کا پابند ہے۔

ادھر بھارتی وزیر نے کہا کہ 'پاکستان اپنی سرزمین کو بھارت کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابل اعتبار، قابل تصدیق اور ناقابل واپسی اقدامات اٹھا کر تعلقات کی بحالی کا ماحول قائم کرسکتا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے 'غیرذمہ دارانہ اور جھوٹے' الزامات مسترد کردیے

بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے باقاعدگی کے ساتھ دو طرفہ، علاقائی اور کثیر الملکی پلیٹ فارمز پر پاکستان کے حوالے سے خدشات اٹھائے ہیں جس کی وجہ سے دنیا اب بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دی گئی تنطیموں مثلاً جماعت الدعوہ، لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین کی سرگرمیوں کے حوالے سے خبردار ہے۔

بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 'مقبوضہ کشمیر میں سنگین اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی دہشت گردی کے ساتھ بھارت دوسروں پر الزامات دھر کے دوسروں کو گمراہ نہیں کرسکتا'۔