ای سی سی نے کم مقدار میں گندم درآمد کرنے کا حکم دے دیا

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

کمیٹی نے بولی دہندگان کی مشکوک سرگرمیوں پر 15 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے لیے ٹینڈر منسوخ کرنے کی اجازت بھی دی۔ فائل فوٹو:رائٹرز
کمیٹی نے بولی دہندگان کی مشکوک سرگرمیوں پر 15 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے لیے ٹینڈر منسوخ کرنے کی اجازت بھی دی۔ فائل فوٹو:رائٹرز

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بولی دہندگان کی مشکوک سرگرمیوں پر ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے لیے ٹینڈر منسوخ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے تجارتی کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو بتدریج چھوٹے ٹینڈرز لینے کا حکم دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیرصدارت ای سی سی کا اجلاس موجودہ سیزن کے دوران درآمد کی جانے والی گندم کی مقدار کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔

اجلاس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان 15 لاکھ ٹن درآمد کرنے کے گزشتہ فیصلے کے خلاف 9 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد نہیں کرسکتا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ای سی سی کے دوسرے اجلاس میں گندم کی درآمد کے معاملے پر صرف تبادلہ خیال ہوا اور پورے اجلاس میں تناؤ برقرار رہا۔

وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ (ایم این ایف ایس آر) نے بتایا کہ پنجاب نے 40 کلوگرام سبسڈی پر 500-600 روپے اضافی لاگت کی مالی اعانت کرنے سے انکار کردیا ہے اور وزارت خزانہ اور ای سی سی کے چیئرمین سے چیف سیکریٹری سے بات کرنے کو کہا ہے۔

اس سے پہلے گندم کی 15 لاکھ ٹن سبسڈی کی لاگت کا تخمینہ لگ بھگ 22 ارب روپے لگایا گیا تھا اور پنجاب سے لگ بھگ 7 لاکھ ٹن درآمدی بل کی توقع کی جارہی ہے۔

اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ غیر ضروری درآمدات کا آئندہ سال مقامی فصل پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے لہذا محتاط توازن کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کے لیے گندم کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو اور اگلے سال کسانوں کو بھی فصلوں کی کاشت کرنے کی ترغیب ملے۔

اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے بتایا ہے کہ وہ گندم دوسرے صوبوں اور مختلف اسٹیک ہولڈروں کو وفاقی حکومت کے کہنے پر کم نرخوں پر مہیا کرے اور پھر درآمد کے لیے مناسب اسٹاک ہونے کے باوجود ہر 40 کلوگرام پر سبسڈی میں 500 سے 600 روپے ادا کرے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم کی خواہش کے مطابق اضافی درآمدات کا سوال پھر سے اٹھایا گیا۔

کابینہ کے ایک سینئر رکن نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے مذکورہ اجلاس میں شرکت کی ہے اور وزیر اعظم نے اضافی درآمدات کے لیے نہیں کہا بلکہ مقامی پیداوار، دستیاب اسٹاک اور کھپت کی ضروریات سے متعلق اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے لیے کہا ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک عہدیدار نے ایک لاکھ 50 ہزار ٹن گندم کی درآمد کے لیے بولی دہندگان کی اجتماعی سرگرمیوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں جو گزشتہ ٹینڈر کے 235 ڈالر کے مقابلے میں فی ٹن 274 ڈالر کی بولی لگارہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جب ڈاکٹر حفیظ شیخ نے سوال کیا کہ کیا ریکارڈ میں کوئی ثبوت موجود ہے تو انہیں بتایا گیا کہ ایک جیسی بولیوں میں ملی بھگت نظر آتی ہیں، گندم کی کل درآمداتی قیمت تقریبا ایک ہزار 400 روپے کے مقامی نرخ کے مقابلہ میں تقریبا 2 ہزار روپے فی 40 کلوگرام پر پہنچ جائیں گی۔

لہذا ای سی سی نے متعلقہ حکام کو آخری ٹینڈر منسوخ کرنے اور درآمدی ضرورت کو 15 لاکھ ٹن سے کم کرنے پر غور کیا گیا۔

ایک مختصر سرکاری بیان میں کہا گیا کہ 'یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان وقتاً فوقتاً چھوٹے ٹینڈروں کے ذریعے مطلوبہ مقدار میں گندم کی درآمد شروع کرے گی تاکہ ملک میں مناسب نرخوں پر گندم کی دستیابی اور اضافہ اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھا جا سکے'۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبہ کے ذریعے گندم کی درآمد کی ضرورت پر تفصیلی بحث ہوئی، وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ گندم کی فراہمی ایک اہم معاملہ ہے، ملک میں مناسب نرخوں پر وافر مقدار میں گندم کی فراہمی ضروری ہے۔