ایل او سی پر فائرنگ سے 3 شہری زخمی، بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

تینوں شہری اندرا والا گاؤں کے رہائشی تھے جو فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے—فائل فوٹو: اے پی
تینوں شہری اندرا والا گاؤں کے رہائشی تھے جو فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے—فائل فوٹو: اے پی

دفتر خارجہ میں بھارتی سینئر سفارت کار کو طلب کر کے 17 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) پر جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا جس کے نیتجے میں 3 بے گناہ شہری زخمی ہوگئے تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایل او سی کے جندروٹ اور ہاٹ اسپرنگ سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 15 سالہ ارم ریاض، 26 سالہ نصرت کوثر اور 16 مخیل زخمی ہوگئے تھے۔

مذکورہ تینوں شہری اندرا والا گاؤں کے رہائشی تھے جو فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور ایک مرتبہ پھر طلب

دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی قابض فورسز ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں شہری آبادی کو آرٹلری فائر، مارٹرز اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

بیان کے مطابق بھارت نے رواں برس 2 ہزار 280 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 18 شہادتیں ہوئیں اور 183 معصوم شہری شدید زخمی ہوئے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فائرنگ واضح طور پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی قواعد کے بھی خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کی خلاف وزی کرتے ہوئے ایل او سی کے اطراف میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی سفارت کار کی دفتر خارجہ طلبی، ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں کشیدگی کو ہوا دے کر بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

بھارت سے 2003 کے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کرکے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو برقرار رکھا جائے۔

دفتر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ، سینئر بھارتی سفارتکار کی دفترخارجہ طلبی

خیال رہے کہ رواں برس بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعات میں خاصہ اضافہ دیکھا گیا ہے اور آئے روز آزاد کشمیر میں ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے۔

محض 5 روز قبل 11 اور 12 ستمبر کی درمیانی شب بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہادت اور چار شہری زخمی ہوئے تھے۔

قبل ازیں 5 ستمبر کو ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں کرنی گاؤں کے رہائشی 19 سالہ محمد طارق ولد غلام حسین کے شدید زخمی ہونے پر بھارتی سفارتکار کو طلب کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ 19 اگست کو بھارتی فورس کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایل او سی کےسبزکوٹ سیکٹر میں 70 سالہ جان بی بی زوجہ صدیق سکنہ گاوں کھوئی شدید زخمی ہوگئی تھیں۔

علاوہ ازیں 14 اگست کو بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے تیجیاں گاؤں کی رہائشی 3 سالہ بچی زلیخا دختر مشتاق شدید زخمی ہوئی تھی۔

قبل ازیں پاکستان نے 28 جولائی کو ایل او سی پر کی گئی سیز فائر کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا تھا جس میں تین معصوم شہری زخمی ہو گئے تھے۔