لوگوں سے کہتا ہوں غلط کام کروں تو وہ میری گاڑی کو اینٹیں ماریں، وزیر داخلہ

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

وزیر داخلہ کے مطابق ملک میں عدالتی نظام، لا اینڈ آرڈر کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے — فوٹو: پی آئی ڈی
وزیر داخلہ کے مطابق ملک میں عدالتی نظام، لا اینڈ آرڈر کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے — فوٹو: پی آئی ڈی

وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے احتساب ضروری ہے اور لوگوں سے کہتا ہوں کہ مجھ سے غلط کام ہو تو وہ میری گاڑی کو اینٹیں ماریں اور اسی طرح ہر ایک کے ساتھ ہونا چاہیے۔

لاہور چیمبر آف کامرس میں پاسپورٹ آفس کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعجاز شاہ نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون سازی تحریک انصاف کے لیے نہیں ملک کے لیے کی گئی، ایسے کام جو موجودہ حکومت کر رہی ہے وہ بہت پہلے ہونے چاہئیں تھے جبکہ یہ قانون کل کو ہم پر بھی لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو غلط کام کرتا ہے اس کا احتساب ہو، خود بھی کہتا ہوں کہ مجھ سے غلط کام ہو تو لوگ میری گاڑی کو اینٹیں ماریں اور اسی طرح ہر ایک کے ساتھ ہونا چاہیے جو غلط کام کرتے ہیں کیونکہ احتساب سے کوئی مبرا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کابینہ میں بعض اوقات اختلاف رائے ہو جاتا ہے جو جمہوریت میں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی سے منظور شدہ انسداد منی لانڈرنگ سمیت دو بل سینیٹ میں مسترد

وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جبکہ عنقریب سائبر ونگ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں عدالتی نظام، لا اینڈ آرڈر کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان 60 فیصد وقت معیشت کو درست کرنے میں لگا رہے ہیں، موجودہ حکومت کو معیشت ابتر حالت میں ملی، اس کے بعد کورونا کی صورتحال کا بھی معیشت پر دباؤ پڑا۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے ٹیکس پیئر اور ٹیکس کولیکٹر دونوں کو اچھا ہونا چاہیے اور ملک میں صنعت کو فروغ حاصل ہو، ملک میں بیروزگاری سے نجات انڈسٹریلائزیشن کے ذریعے ممکن ہے، ہمارے مقامی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ ملائشیا اور بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کی بجائے اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں تاکہ بیرون ملک سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہو۔

انہوں نے ملک میں درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کورونا وائرس کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنی پالیسی میں کامیاب ہوئی، جب کورونا آیا تو ملک میں صرف 4 ایسی لیبارٹریز تھیں جو کورونا ٹیسٹ کرتی تھیں، اس وقت 160 لیبارٹریز کورونا ٹیسٹ کر رہی ہیں، ملک میں ماسک نہیں تھے تاہم اب پاکستان این 95 ماسک برآمد کر رہا ہے، ملک میں صرف 500 سے 600 وینٹی لیٹرز موجود تھے لیکن اب 5 سے 6 ہزار وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے کم مقدار میں گندم درآمد کرنے کا حکم دے دیا

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب صاحب اقتدار پاکستان کے ہسپتالوں میں علاج کروائیں گے، اگر ہم اپنا اور بچوں کا چھوٹے سے چھوٹا علاج بیرون ممالک کروائیں گے تو پھر صحت کے نظام میں بہتری ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی کے چیلنجز کا سامنا ہے، پنجاب میں 4 کروڑ ٹن گندم خریدنے کے باوجود آٹا نہیں، اللہ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے یہاں سب کچھ موجود ہے، بطور پاکستانی اگر ہم ٹھیک ہو جائیں تو یہاں کوئی بھی چیز ختم نہیں ہو سکتی۔