خیبرپختونخوا: فوجداری مقدمات کا ریکارڈ 'ڈیجیٹلائز' کرنے کا فیصلہ

19 ستمبر 2020

ای میل

کمیٹی نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ سے ملاقات کی۔—فوٹو: رائٹرز
کمیٹی نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ سے ملاقات کی۔—فوٹو: رائٹرز

پشاور: صوبائی انصاف کمیٹی نے صوبے میں فوجداری مقدمات کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فوجداری مقدمات کے اندراج کے بعد استغاثہ اور پولیس مل کر کام کریں گے۔

مزیدپڑھیں: اپوزیشن سے کرپشن کے سوا ہر چیز پر سمجھوتے کیلئے تیار ہیں، عمران خان

کمیٹی نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ سے ملاقات کی۔

خیال رہے کہ مذکورہ کمیٹی ایک اعلی صوبائی ادارہ ہے جو ’موثر انتظامیہ، عمل اور قانون اور تنظیموں کی منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور جامع نگرانی کو یقینی بنانے اور صوبے میں قانون، انصاف اور سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے‘ کو یقینی بنائے گی۔

کمیٹی نے 28 اگست کو اپنے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جس میں ممبر محکموں کے ذریعے فوکل افراد کی نامزدگی، آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ترقی، محکمہ داخلہ کا ہائی کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کے ساتھ رابطہ، مجرمانہ انصاف کے نظام کی اصلاح اور ترقی شامل ہیں۔

پروبیشن اور پیرول قوانین کے موثر نفاذ، استغاثہ اور پولیس کے مابین کوآرڈینیشن، عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹلائزیشن، لا افسران کی تقرری کے لیے طریقہ کار میں بہتری، اور مسودہ قوانین کی تیاری کے لیے ایک طریقہ کار بھی شامل ہوگا۔

مزیدپڑھیں: 'صوبے کے لیے ٹھیک کام نہیں کر سکتے تو کمیٹی کمیٹی بہت کھیل لیا'

کمیٹی نے ہائی کورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل کی ضروریات اور لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے صوبائی دفتر کے قیام پر بھی غور کیا۔

جمعہ کے اجلاس میں ہائی کورٹ کے رجسٹرار خواجہ وجیہہ الدین نے جوڈیشل سروس ایکٹ کے مسودے کو نافذ کرنے اور انصاف کے شعبے کے دیگر قانون سازی کی ضرورت پر پیش کش دی۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی آزادی انصاف کی انتظامیہ کی بنیاد پر جھوٹ بولتی ہے۔

اس میں کہا گیا کہ فوجداری نظام کے معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے تمام محکموں کے فوکل پرسنز ہر ماہ ملیں گے۔

ممبر محکموں نے اتفاق کیا کہ وہ سب اگلے سال کے لیے پرفارمنس بینچ کا معیار طے کریں گے اور 18 دسمبر کو ہونے والے پی جے سی کے اگلے اجلاس میں پیشرفت کی رپورٹ پیش کریں گے۔

مزیدپڑھیں: چاہتا ہوں کے پی اور پنجاب کا پولیس نظام سندھ میں بھی آئے، وزیراعظم

چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کوششیں صوبے میں ایک موثر اور خدمت پر مبنی انصاف کے نظام کو متعارف کروانے کو یقینی بنائیں گی۔

اجلاس میں صوبائی ایڈووکیٹ جنرل شمائل احمد بٹ اور صوبائی پولیس چیف ثنا اللہ عباسی نے بھی شرکت کی۔


یہ خبر 19 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی