جب بچوں کو ڈاک کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ بھیجا جاتا تھا

20 ستمبر 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو موجودہ عہد میں خطوط اور اشیا کی ترسیل کے لیے محکمہ ڈاک کا استعمال بہت کم ہوگیا ہے۔

مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب خطوط اور پارسل کے ساتھ بچوں کو بھی ایک سے دوسری جگہ ڈاک کے نظام سے بھیجا جاتا تھا۔

جی ہاں واقعی 20 ویں صدی کے آغاز میں ایسا کچھ امریکا میں دیکھنے میں آیا۔

یہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی پوسٹ آفس کی جانب سے بڑے پارسل بھیجنے کی سہولت کو توسیع دی۔

اس اسکیم کے تحت لگ بھگ 5 کلوگرام وزنی اشیا کو پارسل پوسٹ کے ذریعے بھیجنے ی سہولت فراہم کی گئی تھی جو بڑی دستاویزات یا تحائف کے لیے اچھی آفر تھی۔

مگر کچھ والدین نے اسے کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لیتے ہوئے اپنے بچوں کو پارسل کے طور پر بھیجنا شروع کردیا۔

ایسے سب سے پہلے واقعے میں 8 ماہ کے جیمز بیگل کو بھیجا گیا۔

درحقیقت اس بچے کے والدین کچھ زیادہ ہی سست تھے جو اسے چند میل دور دادا دادی کے گھر لے کر جانے کی زحمت بھی کرنا نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے 15 سینٹ میں بچے کو ڈاک کے ذریعے بھیج دیا اور چونکہ جیمز کا وزن 5 کلو سے کم تھا تو محکمہ ڈاک کی شرائط کی خلاف ورزی بھی نہیں تھی۔

یہ کہانی اس عہد میں متعدد اخبارات کے صفحہ اول پر شائع ہوئی جبکہ اس کے بعد یہ رجحان زور پکڑنے لگا۔

ایسا ہی ایک اور مشہور واقعے میں 4 سالہ شیرولیٹ مے پیرزٹورف کو 73 میل دور دادا دادی کے گھر ٹرین کے ذریعے پارسل کیا گیا۔

درحقیقت ٹرین کے ٹکٹ کے مقابلے میں اس طرح بچی کو بھیجنا زیادہ سستا رہا اور والدین کو بھی کسی قسم کی فکر نہیں تھی کیونکہ خاندان کا ایک رکن ریلوے میل سروس کا ایک کلرک تھا۔

اس زمانے میں ایسے متعدد جوڑوں نے اپنے بچوں کو اپنے والدین کے گھر اس طرح بھیجا اور بتدریج یہ رجحان ختم ہوتا چلا گیا۔

بظاہر یہ بہت عجیب لگتا ہے مگر امریکی محکمہ ڈاک نے ماضی میں ایسے متعدد عجیب و غریب تجربات کیے تھے جیسے میزائل کے ذریعے خطوط کی ترسیل۔

جی ہاں واقعی 1950 کی دہائی میں جب امریکا اور روس کے دوران خلائی دوڑ کا آغاز اور میزائلوں پر کام ہونے لگا تو امریکی حکومت نے پرواز کی اس ٹیکنالوجی کو صرف فوج تک محدود رکھنا ضرورت نہیں سمجھا، بلکہ اسے خطوط پہنچانے کا تیزترین ذریعہ سمجھا گیا۔

اور یقین کریں امریکا کے پوسٹل سروسز ادارے نے خطوط کو میزائل میل کے ذریعے بھیجنے کی پوری پوری کوشش بھی کی بلکہ کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔

جون 1959 میں امریکی بحریہ نے امریکی ساحل سے سو میل دور بین الاقوامی پانیوں میں تعینات ایک آبدوز یو ایس ایس باربیرو سے 3 ہزار خطوط ایک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے فلوریڈا کے علاقے مے پورٹ میں واقع نیول ائیر اسٹیشن پر بھیجے۔

36 فٹ کے اس میزائل نے آبدوز سے اس بحری مرکز پر خطوط کو 22 منٹ میں پہنچا دیا اور میزائل کے وارہیڈ چیمبر میں 2 دھاتی ڈبوں میں ان خطوط کو رکھا گیا تھا۔

ان خطوط پر معمول کے ڈاک ٹکٹ بھی تھے جبکہ بائیں جانب لکھا تھا پہلی آفیشل میزائل میل۔