پن بجلی گھروں نے حکومت کے ساتھ پرانے معاہدوں پر نظر ثانی سے انکار کردیا

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2020

ای میل

آئی پی پیز مذاکراتی کمیٹی اوور ایچ پی پیز کے 3 سے 4 مرتبہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں تاہم ابھی تک کسی چیز کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ کوہی مری:فائل فوٹو
آئی پی پیز مذاکراتی کمیٹی اوور ایچ پی پیز کے 3 سے 4 مرتبہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں تاہم ابھی تک کسی چیز کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ کوہی مری:فائل فوٹو

اسلام آباد: جہاں حکومت انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) برائے تھرمل و قابل تجدید بجلی کے ساتھ دستخط ہونے والے مفاہمتی یادداشت کے تحت ٹیرف میں ڈسکاؤنٹ کو معاہدے کی شکل دینے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے وہیں پن بجلی گھروں (ایچ پی پیز) کے اسپانسرز نے حکومت کے ساتھ پرانے معاہدوں پر نظر ثانی کرنے سے انکار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ سابق وفاقی سکریٹری بابر یعقوب کی زیرقیادت آئی پی پیز مذاکراتی کمیٹی اور ایچ پی پیز کے درمیان 3 سے 4 مرتبہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں جس میں اسٹیک ہولڈرز کے ممبران اور حکومت کی جانب سے تقرر کی گئی ایجنسیاں بھی شامل تھیں تاکہ بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جاسکے تاہم ابھی تک کسی چیز کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ

ایچ پی پیز کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ ’انہوں نے مذاکراتی کمیٹی کے تیار کردہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ حکومت کسی بھی ٹیکنالوجی (فرنس آئل، گیس، کوئلہ، شمسی اور ہوا وغیرہ) سے قطع نظر تمام آئی پی پیز پر جھاڑو پھیر رہی ہے اور ایکوئٹی ریٹرن، آپریشن اور بحالی کے اخراجات اور دیگر میں کمی لانے کی خواہاں ہے جبکہ بجلی پیدا کرنے والی تمام ٹیکنالوجیز مختلف ہیں۔

ان ذرائع نے بتایا کہ تھرمل، ہوا اور شمسی توانائی سے چلنے والے پلانٹس میں 85-90 فیصد پلانٹ اور مشینری کی لاگت اور بقیہ 10-15 فیصد سول ورکس کے طور پر شامل ہیں تاہم دوسری جانب پن بجلی گھر لگ بھگ 80 فیصد سول ورکس اور باقی 20 فیصد پلانٹ اور مشینری لاگت پر مشتمل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایچ پی پیز کی عمر طویل 6 سے 8 سال ہوتی ہے جبکہ دیگر ٹیکنالوجیز کی 2 سے 3 سال ہوتی ہے۔

ہائیڈرو پاور کے مقامی معیشت پر کئی فوائد ہیں جن میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی تعمیراتی صنعتوں کو فروغ دینا شامل ہے تاہم اعلی سول ورکس کی وجہ سے حتمی تعمیراتی لاگت غیر متوقع ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چھوٹے بجلی گھروں کا مستقبل کیا ہوگا؟

حکومتی ٹیم کو بتایا گیا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صرف مخصوص اور مختص لاگت کی اجازت دی ہے، لاگت کے بڑھنے پر اسپانسرز کو اس کی اجازت نہیں دی گئی، اسی طرح فوری طور پر ایکوئٹی ریٹرن کو کم بھی کیا جانا چاہیے۔

نیپرا عام طور پر 17 فیصد کی داخلی شرح ریٹرن (آئی آر آر) کی اجازت دیتا ہے تاہم اسپانسرز کا اصرار ہے کہ کسی بھی ایچ پی پی نے یہ حاصل نہیں کیا اور زیادہ تر 11-13 فیصد آئی آر آر تک ہی حاصل کر پاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کمیٹی کو اپنی سمت کو بہتر کرنا ہوگا اور اس شعبے میں درکار مستقبل میں ہونے والی سرمایہ کاری پر نظر ڈالتے ہوئے ہر پیداواری ٹیکنالوجی پر الگ الگ غور کرنا ہوگا۔

اس وقت تقریبا 340 میگاواٹ کے تین ایچ پی پیز کام کر رہے ہیں جبکہ 10 ایچ پی پیز جن میں سے چند پاک چین اقتصادی تعاون کے تحت ہیں، زیر تعمیر ہیں جن میں سے 2027 میں 3 ہزار 750 میگاواٹ اور 2028 میں ایک ہزار 200 میگاواٹ مکمل ہوگا۔