سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: ایم کیو ایم کے رحمٰن بھولا، زبیر چریا کو سزائے موت، رؤف صدیقی بری

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2020

ای میل

بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی سے 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی سے 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کارکن عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت سنا دی جبکہ رہنما ایم کیو ایم اور اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کردیا۔

واضح رہے کہ 8 سال قبل 11 ستمبر 2012 کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے مرد و خواتین سمیت 260 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ابتدائی طور پر فیکٹری مالکان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، بعدازاں ان پر غفلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے لیکن پھر اس المناک واقعے پر کئی سوالات اٹھے تھے کہ آگ لگی یا لگائی گئی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: کب کیا ہوا؟

ملکی تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی سانحے کے اس کیس کا فیصلہ آج 8 سال بعد سنایا گیا، جس کے لیے بڑی تعداد میں صحافی عدالت میں موجود رہے۔

سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج کی جانب سے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے فیصلہ سنایا گیا۔

اس کیس کا فیصلہ شواہد کی ریکارڈنگ، پروسیکیوشن کے گواہوں اور ملزمان کے بیانات، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل اور ملزمان کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر سامنے آیا۔

عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں 4 ملزمان رؤف صدیقی، ڈاکٹر عبدالستار خان، عمر حسن، اقبال ادیب خانم کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کردیا جبکہ 2 مرکزی ملزمان عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو پھانسی کی سزا سنا دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اس وقت کے ایم کیو ایم کے بلدیہ کے سیکٹر انچارچ اور بدقسمت فیکٹری کے اس وقت کے فنشنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ محمد زبیر عرف چریا کو دہشت گردی مرتکب قرار دیتے ہوئے 'آتش زنی' کے ذریعے 264 افراد ( مرد و خواتین دونوں) کی موت کا سبب بننے پر ہر ایک کو موت کی سزا سنائی۔

اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے ہر مقتول کی موت کے لیے 2 لاکھ روپے کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

ساتھ ہی جج نے دونوں کارکنان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (اے) اور 34 کے تحت 264 افراد کے قتل پر سزائے موت بھی دی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فیکٹری میں موجود ورکرز/ملازمین کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے یا ان کی موت کا سبب بن سکنے کے جرم میں حصہ لینے پر رحمٰن بھولا اور زبیر چریا کو عمر قید کی سزا بھی دی گئی۔

اس کے علاوہ ایک کیو ایم کے دونوں کارکنوں کو 60 افراد (زخمی ہونے والے مرد و خواتین) کو قتل کرنے کی کوشش پر ہر ایک 10 سال قید کی سزا بھی سنائی اور ان پر ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا یا اس کی عدم ادائیگی کی صورت میں 6 ماہ مزید قید کاٹنے کا حکم دیا۔

مزید سزا میں 60 افراد کو زخمی کرنے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت عمر قید کی سزا بھی سنائی اور 2، 2 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم بھی دیا یا دوسری صورت میں 6 ماہ کی اضافی سزا کاٹنا ہوگی۔

ساتھ ہی عدالت نے عوام، فیکٹری مالکان، ورکرز اور ملازمین کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے اور انہیں فیکٹری کی عمارت سے باہر آنے سے روکنے پر بھی عمر قید کی سزا دی، اسی طرح کی سزا انہیں فیکٹری کو تباہ کرنے پر بھی دی گئی۔

اس کے علاوہ عدالت نے رحمٰن بھولا اور زبیر چریا کو فیکٹری مالکان کو دھمکیاں دینے اور بھتہ مانگنے پر ہر ایک کو 15 سال کی مشترکہ سزا بھی سنائی جبکہ ڈھائی لاکھ روپے جرمانے کا بھی حکم دیا۔

مزید برآں اے ٹی سی نے جرم میں سہولت فراہم کرنے پر 4 چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد کو بھی عمر قید کی سزا سنائی اور 4،4 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

اس کے علاوہ انہیں ہر متاثرہ خاندان کو 27 لاکھ 77 ہزار 353 روپے دیت ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

اس سے قبل 17 ستمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان تھا تاہم اسٹیٹ پراسیکیوٹر (سرکاری وکیل) نے متاثرین سے متعلق اضافی دستاویزات پیش کیں تھی جس کے بعد معاملے کو 22 ستمبر کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔

8 سال تک چلنے والے اس مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا، زبیر عرف چریا، حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے چار چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزمان کی سفاکی

ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری کے مالک کی جانب سے 25 کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی، حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا کیونکہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ اس کیس میں پروسیکیوشن نے فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 افراد کی گواہی سمیت مقدمے کو مکمل کیا، تاہم اس کے برعکس نامزد ملزمان نے تمام تر الزامات کو مسترد کردیا۔

ثابت ہوگیا ایم کیو ایم پاکستان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں، ترجمان

ادھر ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے عدالتی فیصلے پر کہا گیا کہ کیس میں رکن رابطہ کمیٹی رؤف صدیقی کی بریت ثابت کرتی ہے کہ اس کیس سے ایم کیو ایم پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔

فیصل سبزاوری نے ٹوئٹ کی کہ ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق کہ سانحہ بلدیہ کے لواحقین سے شدید ہمدردی ہے کہ انہیں 8 برس تک فیصلے کا انتظار کرنا پڑا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتیں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے تمام لواحقین کو جلد ومکمل انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گی۔

ساتھ ہی ترجمان کا کہنا تھا کہ واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی سماج دشمن اور قانون شکن عناصر کی سرپرستی ایم کیو ایم پاکستان کی پالیسی نہ پہلے تھی اور نہ کبھی ہوگی۔

اس کیس پر اگر نظر ڈالیں تو ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا، اس کیس کی ابتدائی چارج شیٹ میں مبینہ غفلت پر فیکٹری مالک عبدالعزیز بھیلا، ان کے دو بیٹوں ارشد بھیلا اور شاہد بھیلا، ایک جنرل منیجر اور چار چوکیداروں کو نامزد کیا گیا تھا۔

البتہ فروری 2015 میں کیس نے اس وقت نیا موڑ لیا جب پاکستان رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرائی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 25 کروڑ روپے بھتے کی عدم ادائیگی پر فیکٹری میں آگ لگائی اور اسی جے آئی ٹی کی بنیاد پر دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

مارچ 2016 میں پولیس نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ فیکٹری میں منظم منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گئی اور یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

پولیس نے اپنی جے آئی ٹی میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی اور حماد صدیقی، مبینہ فرنٹ مین عبدالرحمٰن عرف بھولا، کاروباری بھائیوں علی حسن قادری اور عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، اقبال ادیب خانم، زبیر عرف چریا اور دیگر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

البتہ طویل تفتیش کے بعد پولیس نے اگست 2016 میں ضمنی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے حماد صدیقی، عبدالرحمٰن دیگر 3 نامعلوم ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی اور دیگر 13 افراد کو ٹرائل میں نامزد نہیں کیا تھا لیکن عدالت نے جن افراد کے نام نئی چارج شیٹ میں شامل نہیں کیے تھے ان کو بھی ملزم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالکان نے فیکٹری کے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ دیگر افراد نے بھی جرم کا ارتکاب کیا۔

دسمبر 2016 میں عبدالرحمٰن عرف بھولا کو انٹرپول کے ذریعے بنکاک سے گرفتار کیا گیا اور انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا، اپریل 2017 میں پولیس نے بھولا کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کی تھی۔

مذکورہ ضمنی چارج شیٹ میں عبدالرحمٰن نے اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے زبیر عرف چریا اور دیگر کو حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری میں آگ لگانے کی ہدایت کی تھی کیونکہ فیکٹری مالکان مانگی گئی بھتے کی رقم یا فیکٹری میں شراکت داری سے انکار کر چکے تھے۔

مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات

انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد اس وقت کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے صوبائی وزیر رؤف صدیقی نے مبینہ طور پر فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور بعد میں انہیں پتا چلا تھا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی کو مقدمہ ختم کرنے کے لیے فیکٹری مالکان سے 4 سے 5 کروڑ روپے کی رقم ملی تھی لیکن پولیس نے اپنی ضمنی رپورٹ میں رکن صوبائی اسمبلی کو معصوم قرار دیا تھا۔

ستمبر 2019 میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے مالک ارشد بھیلا نے بیان دیا کہ ہمیں متحدہ قومی موومنٹ کو کروڑوں روپے بھتہ دینا کا کہا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ رحمٰن بھولا نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا تھا جبکہ اس آتشزدگی کے بعد 12 ستمبر 2012 کو واقعہ کا مقدمہ ایم کیو ایم اور رؤف صدیقی کے دباؤ پر ہمارے خلاف ہی درج کردیا گیا تھا اور 24 گھنٹوں میں ہمارے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کردیے گئے تھے۔