پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان میں کل سے مڈل اسکولز کھولنے کا اعلان

ای میل

این سی او سے نے ملک میں وبا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد دوسرے مرحلے میں اسکول کھولنے کی اجازت دے دی—فائل فوٹو: رائٹرز
این سی او سے نے ملک میں وبا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد دوسرے مرحلے میں اسکول کھولنے کی اجازت دے دی—فائل فوٹو: رائٹرز

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے ملک بھر میں دوسرے مرحلے میں چھٹی سے آٹھویں جماعتوں کے لیے کل سے اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دے دی جبکہ سندھ حکومت نے یہ اس فیصلے کو 28 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں مڈل اسکول کھولنے کا فیصلہ اسلام آباد میں این سی او سی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیر اسد عمر نے کی۔

دوسرے مرحلے میں آئندہ روز سے سندھ کے سوا باقی تینوں صوبوں میں چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے لیے اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوجائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: دوسرے مرحلے میں اسکولز 23 ستمبر سے شیڈول کے مطابق کھلیں گے، وفاقی وزیر تعلیم

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے تقریباً ساڑھے 6 ماہ سے بند تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے پہلے مرحلے میں کھولے گئے تھے۔

حکومت نے 15 ستمبر سے 9ویں دسویں اور دیگر جماعتیں، 23 ستمبر سے 6 سے 8ویں جماعت جبکہ 30 ستمبر سے پرائمری جماعتوں کے لیے تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم ان فیصلوں کو وبا کی صورتحال کے جائزے سے مشروط کیا تھا۔

چنانچہ آج این سی او سے نے ملک میں وبا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد دوسرے مرحلے میں اسکول کھولنے کی اجازت دے دی۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ

دوسری جانب پہلے مرحلے میں کھلنے والے چند تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز رپورٹ ہونے اور ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے حکومت سندھ نے دوسرے مرحلے کو 28 ستمبر تک ملتوی کردیا تھا۔

سندھ

دوسری جانب وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں 6 سے 8ویں جماعتوں کے لیے اسکولز اعلان شدہ شیڈول کے مطابق 28 ستمبر سے ہی کھلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے فیصلے تحت تمام سرکاری اور نجی اسکولز 28 ستمبر سے 6 سے 8ویں جماعت کے لیے اسکولز کھولنے کے پابند ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں؛ سندھ میں دوسرے مرحلے میں 21ستمبر سے اسکولز نہ کھولنے کا فیصلہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے چند روز قبل یہ فیصلہ صوبے میں پہلے مرحلے کے کھلنے کے بعد زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ جب تک نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا ہم بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ خود سندھ کے مختلف اضلاع لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ اور دیگر کا دورہ کرکے تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پنجاب

این سی او سی کے فیصلے کے مطابق پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے اسکولوں کو 23 ستمبر سے چھٹی سے 8ویں جماعت کے لیے تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کی اجازت دے دی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ 'ہر ایک کے لیے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا لازمی ہے'۔

وزیر تعلیم پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اسکولز دوبارہ کھولنے کے فیصلے کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

بلوچستان

دوسری جانب وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق بلوچستان کی صوبائی حکومت نے بھی دوسرے مرحلے کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن بلوچستان سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبے میں تمام سرکاری، نجی اور نیم سرکاری اسکولز باقاعدگی سے کھلے رہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ جو اسکولز اساتذہ اور طلبہ میں کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد بند کیے گئے تھے اوہ بھی 23 ستمبر سے کھل جائیں گے۔

اعلامیے میں ہدایت کی گئی اب کورونا کیس سامنے آنے پر کوئی اسکول بند نہیں رہے بلکہ وائرس سے متاثرہ افراد کو 14 روز کے قرنطینہ کردیا جائے گا اور رپورٹ منفی آنے پر ہی وہ تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔

خیبرپختونخوا

علاوہ ازیں صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی مڈل سکول کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

وزیر تعلیم خیبرپختونخوا شہرام ترکئی نے بتایا کہ صوبے میں آئندہ روز سے مڈل اسکول کی تعلیم بحال ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن کنٹرول کے اجلاس کے تحت کیا گیا۔

شہرام ترکئی کے مطابق کورونا ایس او پیز کے تحت مڈل کلاسز شروع کررہے ہیں، اگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہین کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ 15 ستمبر سے اب تک صوبے میں 28 اسکولز سیل کیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بچوں کا مزید قیتمی وقت ضائع نہیں کرسکتے، اگر حالات بہتر ہویے تو پرائمری سکول بھی جلد کھول دیے جائیں گئے۔