سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: عدالت سے مجھے انصاف ملا، رؤف صدیقی

22 ستمبر 2020

ای میل

ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی—اسکرین شاٹ
ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی—اسکرین شاٹ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما رؤف صدیقی نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل سے میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں بری ہوا اور مجھے عدالت سے انصاف ملا۔

کراچی میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں ںے کہا کہ اس سانحے کے وقت میں نے احتجاجاً تیسرے دن ہی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ لوگ چپڑاسی کی نوکری تک نہیں چھوڑتے جبکہ میں نے کہا تھا کہ تمام متاثرین کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں خود کو رضاکارانہ طور پر عدالت میں پیش کیا، 2 مرتبہ تفتیش ہوئی اور مجھے بے گناہ قرار دیا گیا جبکہ مذکورہ کیس میں 200 سے زائد پیشیاں ہوئیں جس میں شریک ہوتا رہا۔

مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات

رؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اس مقدمے میں مجھے باعزت بری کیا گیا، تاہم اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے فیصلہ سنایا اور مجھے انصاف ملا ہے۔

اس واقعے کو اندہوناک سانحہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحے میں جلنے والے لوگوں کی چیخیں آج بھی میرے کانوں میں بھری ہوئی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں جب بھی پیشی پر آتا تھا سانحہ بلدیہ فیکٹری واقعے کی رات نہیں بھول پاتا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا 8 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے ایم کیو ایم کے 2 کارکنان عبدالرحمٰن عرف بھولا، زبیر عرف چریا کو سزائے موت دے دی جبکہ رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کردیا۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 یعنی کے 8 سال قبل کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے مرد و خواتین سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ابتدائی طور پر فیکٹری مالکان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، بعدازاں ان پر غفلت کے الزامات عائد کی گئے تھے لیکن پھر اس المناک واقعے پر کئی سوالات اٹھے تھے کہ آگ لگی یا لگائی گئی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: رحمٰن بھولا، زبیر چریا کو سزائے موت، رؤف صدیقی بری

8 سال تک چلنے والے اس مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا، زبیر عرف چریا، حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے چار چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل تھے۔

ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری کے مالک کی جانب سے 25 کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی، حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا کیونکہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ اس کیس میں پروسیکیوشن نے فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 افراد کی گواہی سمیت مقدمے کو مکمل کیا، تاہم اس کے برعکس نامزد ملزمان نے تمام تر الزامات کو مسترد کردیا تھا۔