باجوڑ میں انسداد پولیو مہم کا بائیکاٹ ختم

24 ستمبر 2020

ای میل

ملک بھر میں پیر کے روز سے انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
ملک بھر میں پیر کے روز سے انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

باجوڑ کی تحصیل بارنگ کے دو دیہاتوں نے انسداد پولیو مہم کی جاری مہم کا بائیکاٹ ختم کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی عمائدین اور عہدیداروں کی ایک ٹیم کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد داناد اور جلالیسار علاقوں کے متعدد باشندوں نے اپنے بچوں کو قطرے پلانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

چند رہائشیوں کی جانب سے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کی اطلاع ملنے کے فوری بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) زمین خان کی سربراہی میں عہدیداروں کی ایک ٹیم نے ان حفاظتی ٹیکوں پر مقامی آبادی کو راضی کرنے کے لیے علاقوں کا دورہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ گاؤں والوں کو بتایا گیا کہ ویکسین عمر بھر کے فالج سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں 4 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

بیان میں کہا گیا ہے کہ داناد کے تقریبا 204 رہائشیوں اور جلالیسار کے پانچ دیہاتیوں نے اپنے بچوں کو قطرے پلانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عہدیداروں نے مقامیوں کو انسداد پولیو کے اقدامات میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے بھی خبردار کیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق عہدیداروں نے پولیو ورکرز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے متعدد دیگر علاقوں کا بھی دورہ کیا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں پیر کے روز سے انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگیا ہے جس کے دوران 2 لاکھ 75 ہزار ورکرز 5 سال تک کی عمر کے 4 کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں برس کے دوران ملک میں اب تک پولیو کے 73 نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ برس پولیس کے 147 کیسز سامنے آئے اور 2018 میں یہ تعداد 12 تھی۔

صوبائی اعدادو شمار کے مطابق خیبرپختونخوا اور سندھ میں اب تک 22، 22 کیسز سامنے آچکے ہیں، بلوچستان میں کیسز کی تعداد 20 ہے جبکہ پنجاب میں 9 کیسز رپورٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسین کی فراہمی واحد حل

خیال رہے کہ پولیو ایک انتہائی متعدی مرض ہے جو پولیو وائرس سے ہوتا ہے اور 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر فالج اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

پولیو کا کوئی علاج نہیں اور ویکسینیشن ہی بچوں کو اس سنگین بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

متعدد مرتبہ ویکسینیشن سے لاکھوں بچے پولیو سے محفوظ ہوچکے ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

دنیا میں اب صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان ہیں، جہاں اس بیماری کے کیسز اب بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔