سانحہ اے پی ایس: کب کیا ہوا؟

25 ستمبر 2020

ای میل

سانحہ آرمی پبلک اسکول میں 140 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے—فائل فوٹو: اے پی
سانحہ آرمی پبلک اسکول میں 140 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے—فائل فوٹو: اے پی

پاکستان کی 73 سالہ تاریخ مختلف حادثات و سانحات سے بھری پڑی ہے تاہم کچھ واقعات ایسی بھی ہیں جو ہم شاید کبھی بھلا نہ پائیں۔

16 دسمبر کا دن بھی تاریخ کے انہی واقعات میں سے ہے جہاں ایک طرف 1971 میں دو لخت ہوئے پاکستان کا غم منایا جاتا تھا وہی سال 2014 میں اسی روز ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔

16 دسمبر 2014 کی صبح صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس)پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے حملہ کردیا اور وہاں موجود طلبہ اور اساتذہ کو نہ صرف یرغمال بنایا بلکہ ان پر فائرنگ کرکے طلبہ سمیت 140 سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب کو مزید تیز کیا گیا تھا اور یہی نہیں بلکہ واقعے کے کچھ دن بعد ہی اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: جوڈیشل کمیشن رپورٹ: سانحہ آرمی پبلک اسکول 'سیکیورٹی کی ناکامی' قرار

نواز شریف نے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا اعلان کیا تھا اور اس پر ملک کی تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کے بعد اتفاق رائے ہوا تھا۔

حکومت نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نہ صرف قومی لائحۂ عمل ترتیب دیا تھا بلکہ دہشت گردوں کو سزائیں دلانے کے لیے ملک میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں جب کہ سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد غیر اعلانیہ پابندی بھی اٹھالی گئی تھی۔

جہاں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی مرتب کی گئی تھی وہیں سانحہ آرمی پبلک اسکول کے شہید طلبہ و دیگر افراد کے لواحقین انصاف کے متلاشی تھے اور ان کا یہی مطالبہ تھا کہ ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ابتدائی طور پر پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سانحے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کی تھی جسے 2016 میں سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں متاثرین نے انصاف کی فراہمی اور معاملے کی عدالتی تحقیقات کے لیے پشاور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور فروری 2018 میں پشاور ہائی کورٹ نے سانحہ اے پی ایس میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو پولیس تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم جاری کیا تھا۔

اپریل 2018 آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) حملے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

بعد ازں بچوں کے والدین کی درخواست اور ان کی شکایات کے ازالے کے لیے اُس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے ہر ازخود نوٹس بھی لے لیا تھا۔

9 مئی 2018 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے سانحے کی تحقیقات کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل کمیشن بنانے کے لیے زبانی احکامات جاری کیے تھے تاہم ہائی کورٹ کو تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے تھے جس کے باعث کمیشن تشکیل نہیں پایا تھا۔

بعد ازاں5 اکتوبر 2018 کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا تحریری حکم جاری کردیا تھا۔

جس کے بعد 14 اکتوبر 2018 کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں جسٹس محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں اے پی ایس سانحے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

جسٹس ابراہیم خان کی معاونت کے لیے 3 دیگر افسران بھی کمیشن میں شامل تھے۔

کمیشن کے قیام کے تقریباً 2 سال بعد جون 2020 کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرلی جس کی رپورٹ 30 جون تک عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی جائے گی۔

اس بارے میں ترجمان کمیشن نے بتایا تھا کہ کمیشن کی جانب سے سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین سمیت 135 سے زائد افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

علاوہ ازیں کمیشن کے اراکین نے پاک فوج، پولیس اور سی ٹی ڈی کے اعلیٰ افسران کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جبکہ ’کمیشن کی جانب سے اب تک کی گئی تحقیقات اور کارروائیوں کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا گیا‘۔

9 جولائی 2020 کو یہ بات سامنے آئی کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرلی جس کی سربمہر رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرادی گئی۔

اے پی ایس کمیشن کے ترجمان عمران اللہ نے بتایا تھا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول انکوئری کمیشن نے سر بمہر رپورٹ سپریم کورٹ بھیج دی جو 3 ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔

بعد ازاں 4 اگست 2020 کو سانحہ اے پی ایس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لینے کا حکم دیا تھا۔

اس موقع پر والدین کی جانب سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پہلے دن سے ہی انصاف مانگ رہے ہیں لیکن ابھی تک انصاف نہیں ملا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں والدین سے بے حد ہمدردی ہے، اب کیس سپریم کورٹ کے پاس ہے، والدین کو ضرور انصاف ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ اے پی ایس: اٹارنی جنرل کو کمیشن رپورٹ پر حکومت سے ہدایت لینے کا حکم

علاوہ ازیں 25 ستمبر 2020 کو سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) سے متعلق تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اور اٹارنی جنرل کے کمنٹس کو پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اوپر سے کارروائی کا آغاز کریں، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچ سکیں۔

عدالت میں موجود شہید بچوں کے والدین نے کہا تھا کہ یہ واقعہ دہشت گردی نہیں ٹارگٹ کلنگ تھی، ہمارے بچے واپس نہیں آسکتے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ کسی اور کے بچوں کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم زندہ دفن ہوچکے ہیں، ساری عمر نیچے والوں کا احتساب ہوا، اس واقعے میں اوپر والے لوگوں کو پکڑا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو ہم چلائیں گے۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ المیہ ہے کہ ہر بڑے سانحہ کا ذمہ دار چھوٹے لوگوں کو قرار دے دیا جاتا ہے، بڑوں سے کچھ پوچھا نہیں جاتا، یہ روایت ختم ہونی چاہیے۔

بعد ازاں عدالتی حکم پر سانحے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ پبلک کردی گئی تھی جس میں سانحہ آرمی پبلک اسکول کو سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔