ایف آئی اے نے کسی صحافی، رضاکار کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا، وفاقی وزیر

25 ستمبر 2020

ای میل

وفاقی وزیر شیریں مزاری—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وفاقی وزیر شیریں مزاری—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے صحافیوں اور حقوق کے کارکنوں کے خلاف برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016 کے تحت مقدمات کے اندراج کی رپورٹس کو مسترد کردیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ یہ پریشان کن خبریں تھی تو میں نے دیکھا اور میری معلومات یہ ہیں کہ یہ خبریں غلط ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ایف آئی اے نے تمام شکایات کا جائزہ لیا لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی جبکہ ایف آئی اے مخصوص قانونی طریقہ کار کو اپنائے بغیر پیکا کے تحت رپورٹ رجسٹرڈ نہیں کرسکتی۔

مزید پڑھیں: صحافی اسد طور کے خلاف فوج مخالف 'منفی پروپیگنڈا' کرنے پر ایف آئی آر درج

انہوں نے زور دیا کہ کسی کے پاس بھی 'ایف آئی آرز سے متعلق کوئی متضاد ثبوت' ہیں تو وہ انہیں آگاہ کریں تاکہ وہ اس کی پیروی کرسکیں۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر کی جانب سے یہ ردعمل انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اس ٹوئٹ پر دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ رپورٹس 'خطرناک' ہیں کہ ایف آئی اے نے پیکا کے تحت '49 صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ' کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 'ہمارا مطالبہ ہے کہ ریاست اس طرح کی کارروائی سے باز رہے اور سیاسی مخالفت کو روکنے کے لیے ایف آئی اے کو استعمال کرنا بند کرے'۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان نیوز رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان مبینہ الزامات کو فوری طور پر واپس لیں۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے 'تصدیق کے بغیر شورشرابہ' کیا وہ حکومت اور قوم سے معافی مانگیں۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان نیوز رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان مبینہ الزامات کو فوری طور پر واپس لیں۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے 'تصدیق کے بغیر شورشرابہ' کیا وہ حکومت اور قوم سے معافی مانگیں۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں صحافیوں کے خلاف مقدمات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کچھ صحافیوں کے خلاف غداری و فوج کے خلاف منفی پروپیگینڈا کرنے کے الزام میں مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

15 ستمبر کو اسلام آباد میں مقیم صحافی اسد طور نے ایف آئی آر کی ایک کاپی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر 'ریاست، پاکستانی اداروں اور پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا' پر مبنی مواد شیئر کیا تھا۔

راولپنڈی کے رہائشی حافظ احتشام احمد کی ایک شکایت پر اسد طور کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

اس سے قبل اسی طرح کی ایف آئی آر جہلم میں صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف بھی درج کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'پاک فوج کی تضحیک' کا الزام، انگریزی اخبار کے سینئر صحافی گرفتار

ایف آئی آر چوہدری نوید احمد کی شکایت پر درج کی گئی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ابصار عالم نے وزیر اعظم عمران خان اور پاک فوج کے خلاف ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر 'انتہائی نازیبا' زبان استعمال کی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ 'غداری' کے مترادف ہے۔

اس سے قبل کراچی میں پولیس نے سوشل میڈیا پر 'قابل اعتراض' مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون سے وابستہ صحافی بلال فاروقی کو گرفتار کرلیا تھا۔

ایک شہری جاوید خان کی شکایت پر بلال فاروقی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500 اور 505 اور پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 11 اور 12 کے تحت ایف آئی درج کی گئی تھی۔