لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی، بھارتی سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

فائل فوٹو:اے پی
فائل فوٹو:اے پی

بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے 24 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے بروہ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں بچے سمیت 2 بے گناہ شہری شدید زخمی ہوئے تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا اور کہا تھا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی سفیروں کا لائن آف کنٹرول کا دورہ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ

بھارتی سفارتکار کو بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ اسٹریٹیجک غلطی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے رواں سال کے دوران 2 ہزار 340 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 18 بے گناہ شہر ی شہید اور 187 زخمی ہوئے ہیں۔

بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔

بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارت، اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یو این ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کے 2 جوان شہید

خیال رہے کہ دو روز قبل لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 2 جوان شہید ہو گئے تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لائن آف کنٹرول پر ڈیوا سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس پر پاک فوج نے انہیں منہ توڑ جواب دیتے ہوئے فائرنگ شروع کرنے والی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

پاکستانی افواج کے منہ توڑ جوابی فائرنگ سے بھارتی چوکیوں اور نفری کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس موصول ہوئی تھیں۔

گزشتہ دنوں ایل او سی کے جندروٹ اور تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 3 شہری زخمی ہو گئے تھے۔

11 اور 12 ستمبر کی درمیانی شب بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی جوان شہید اور چار شہری زخمی ہوئے تھے۔

قبل ازیں 5 ستمبر کو ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں کرنی گاؤں کے رہائشی 19 سالہ محمد طارق ولد غلام حسین کے شدید زخمی ہونے پر بھارتی سفارتکار کو طلب کیا گیا تھا۔