پنجاب کے 2سینئر پولیس اہلکاروں کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

وفاق کو بھیجے گئے 21 گریڈ اور 20 گریڈ کے افسران میں بی اے ناصر اور ذوالفقار حمید شامل ہیں۔ فائل فوٹو:پنجاب پولیس فیس بک
وفاق کو بھیجے گئے 21 گریڈ اور 20 گریڈ کے افسران میں بی اے ناصر اور ذوالفقار حمید شامل ہیں۔ فائل فوٹو:پنجاب پولیس فیس بک

لاہور: حکومت پنجاب نے صوبائی دارالحکومت کے دو سابق پولیس افسران (سی سی پی او) کی خدمات کو اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاق کو بھیجے گئے 21 اور 20 گریڈ کے افسران بی اے ناصر اور ذوالفقار حمید تھے۔

بی اے ناصر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسٹیبلشمنٹ اور ذوالفقار حمید ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

دونوں افسران نے سی سی پی او لاہور کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں اور یہ افواہیں ہیں کہ انہیں مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں زیادہ تر خدمات پنجاب میں سرانجام دینے کی وجہ سے منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سی سی پی او کے 'نامناسب رویے' پر لاہور پولیس عدم اطمینان کا شکار

در حقیقت ذوالفقار حمید کا نام مسلسل 10 سال سے زیادہ عرصے تک پنجاب میں خدمات انجام دینے والے 24 ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کی فہرست میں چوتھے نمبر پر تھا۔

سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کی تیار کردہ فہرست کے مطابق ذوالفقار حمید نے 20 سال 20 ماہ اور 26 دن مسلسل پنجاب میں مختلف اہم عہدوں میں خدمات انجام دی ہیں۔

بنیادی طور پر مسلم لیگ (ن) کے سابق دور حکومت میں وہ علاقائی پولیس آفیسر مقرر ہونے کے علاوہ دو بار سی سی پی او کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

حکومت پنجاب کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ انہی بنیادوں پر صوبے سے باہر منتقلی کے لیے مزید ناموں پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے اور حکومت ان کا متبادل دوسرے صوبوں سے منتخب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'سی سی پی او کا بیان مناسب نہیں، انتظامی معاملات میں الجھے تو ہدف حاصل نہیں کرسکتے'

ان کا کہنا تھا کہ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) انعام غنی کو مستقبل میں ہونے والے تمام تبادلوں کے سلسلے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔

صوبے کے وزیراعلیٰ نے انہیں چند روز قبل ایک ملاقات کے لیے بلایا تھا جہاں ان پولیس افسران کے تبادلوں پر گفتگو ہوئی تھی جو مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں صوبے میں تعینات تھے اور پارٹی کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 20 گریڈ کے 3 سینئر پولیس افسران کا مطالبہ کیا ہے جن میں خیبر پختونخوا کے ڈی آئی جی احمد جمال الرحمٰن، بلوچستان کے آغا یوسف اور شارق جمال شامل ہیں۔

دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے 5سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) اور ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کی پوسٹنگ کا معاملہ پہلے ہی حکومت پنجاب سے منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔

اس حوالے سے معلومات رکھنے والے سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے 50 کے قریب پولیس افسران کی سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے سی پی او میں ایک اجلاس کے بعد حالیہ سرگرمیوں سے حکومت پنجاب ناخوش ہے۔

انہوں نے سی سی پی او کے خلاف قرار داد تیار کی تھی اور سابق آئی جی پی شعیب دستگیر کی حمایت کی تھی۔

ادھر صوبے سے باہر تبادلے کو بھی اسی واقعے سے جوڑا جارہا ہے۔

دوسری جانب کچھ آزاد افسران نے 2 سینئر افسران کے تبادلوں کو 'سیاسی مقصد' قرار دیا، وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ محکمہ پولیس پہلے ہی سینئر افسران کی کمی کا سامنا کر رہا ہے ایسے میں یہ سب صورتحال کو مزید خراب کردے گا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پنجاب میں ایڈیشنل آئی جیز کی 18 منظور شدہ پوسٹس میں سے 13 پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔