اب ہم اس ملک کو مزید تماشہ نہیں بننے دیں گے، نواز شریف

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

مجھے سزا دیتے دیتے ملک کو ڈبو دیا، سابق وزیر اعظم — فائل فوٹو: اے پی
مجھے سزا دیتے دیتے ملک کو ڈبو دیا، سابق وزیر اعظم — فائل فوٹو: اے پی

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے ملک میں احتساب کے نظام کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہم اس ملک کو مزید تماشہ نہیں بننے دیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر عبدالغفور حیدری اور وفاقی وزیر داکلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کی ویڈیو کلپس شامل تھیں۔

ویڈیو میں سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو اسٹیبلشمنٹ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: آل پارٹیز کانفرنس: جدوجہد عمران خان کے نہیں انہیں لانے والوں کیخلاف ہے، نواز شریف

نواز شریف نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ 'یہ ہے حقیقت اس احتساب کی جس کے ذریعے آپ کے تین بار منتخب وزیر اعظم کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، سزائیں دلوائی گئیں اور اشتہاری قرار دیا گیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے سزا دیتے دیتے ملک کو ڈبو دیا لیکن اب ہم اس ملک کو مزید تماشہ نہیں بننے دیں گے۔

یاد رہے کہ 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کرکے کہا تھا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا‘۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس شوکت صدیقی کا عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا الزام

اپنے خطاب کے دوران بغیر کسی کا نام لیے انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ’مجھے پتہ ہے سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا احتساب عدالت پر ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا‘۔

سابق جج نے کچھ افسران پر عدالتی امور میں مداخلت بالخصوص آئی ایس آئی افسران پر ہائی کورٹ کی بینچز کی تشکیل کے لیے عدالتی معاملات میں ساز باز کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیان کا نوٹس لے لیا تھا جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مذکورہ تقریر پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

بعد ازاں شوکت صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی تجویز پر مس کنڈکٹ آرٹیکل 209 کا اطلاق کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹادیا

اسی طرح گزشتہ سال 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔

ویڈیو میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ نواز شریف سے زیادتی ہوئی۔

تاہم ارشد ملک نے اپنے بیان میں اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس ویڈیو سے میری اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو کیس سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا

ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی البتہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران مسلم لیگ(ن) سمیت اپوزیشن کی جانب سے حکمران جماعت اور اسٹیبلشمنٹ پر سنگین الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ دنوں تمام اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد ہوئی تھی جس کے اعلامیے میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: 16 ستمبر کو اپوزیشن استعفے دے دیتی تو عام انتخابات ہو سکتے تھے، شیخ رشید

اجلاس نے مطالبہ کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کرے، اسٹیبلشمنٹ کے تمام ادارے آئین کے تحت لیے گئے حلف اور اس کی متعین کردہ حدود کی پابندی و پاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہا تھا کہ ہماری جدوجہد وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ 2018 انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہاں یا تو مارشل لا ہوتا ہے یا پھر منتخب جمہوری حکومت سے کہیں زیادہ طاقت ور متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور ایک متوازی نظام چلتا ہے، ایک مرتبہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا، تاہم دکھ کی بات یہ ہے کہ اب معاملہ ریاست کے اوپر ریاست تک جاپہنچا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی معاملات پر فیصلے جی ایچ کیو کے بجائے پارلیمان میں ہونے چاہئیں، مریم نواز

انہوں نے کہا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری میں ہماری ساکھ ختم ہوکر رہ گئی ہے، 2018 کے انتخابات کے بعد متعدد ملکی اور غیر ملکی اداروں کی طرف سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے، جن حلقوں کے جہاں نتائج تبدیل کیے گئے ان کی تعداد اتنی ہے کہ اگر وہاں نتائج نہ تبدیل ہوتے تو بیساکھیوں پر کھڑی یہ حکومت کبھی وجود میں نہیں آسکتی تھی۔