فرانس: چارلی ہیبڈو کے سابقہ دفاتر کے قریب چاقو حملے کے الزام میں پاکستانی نژاد شخص گرفتار

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2020

ای میل

چاقو کے حملے میں 4افراد زخمی ہوئے تھے— فوٹو: رائٹرز
چاقو کے حملے میں 4افراد زخمی ہوئے تھے— فوٹو: رائٹرز

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گستاخانہ خاکے بنانے والے میگزین 'چارلی ہیبڈو' کے سابقہ دفاتر کے قریب چاقو کے حملے کے الزام میں ایک پاکستانی نژاد شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ حکام مشتبہ شخص کے پس منظر کے بارے میں مزید تصدیق کرنے کے لیے کام رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: فرانس: چارلی ہیبڈو کے سابقہ دفاتر کے قریب چاقو کے حملے میں 4 افراد زخمی

وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ وہ اس واقعے کو 'اسلامی دہشت گردی' کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی مشتبہ ملزم پولیس کو بنیاد پرستی کی وجہ سے نہیں پکڑ میں آیا بلکہ اسے گزشتہ ماہ اسکریو ڈرائیور ہاتھ میں لے کر گھومنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ایک عدالتی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ پولیس کے مطابق 7 افراد کو حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے ایک کو اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا جسے ممکنہ طور پر مشتبہ ملزم استعمال کر رہا تھا۔

حادثے میں زخمی ہونے والوں کے نام اب تک سامنے نہیں گئے لیکن وہ فرنچ دستاویزی فلم بنانے والی کمپنی کے ملازم تھے جس کی ان کے مالک نے تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیرس: سیاسی رسالے کے دفتر پر حملہ، 12 ہلاک

پیرس کے میئر اینی ہیڈالگو نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر آزادی اظہار رائے کو نشانہ بنایا گیا۔

چارلی ہیبڈو میگزین نے فیس بُک پر اپنے بیان میں حملے کے متاثرین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

چاقو کا یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب جنوری 2015 میں لگاتار تین دن تک دہشت گرد حملوں میں ملوث 14مشتبہ ملزمان کا ٹرائل جاری ہے اور یہ حملے بھی چارلی ہیبڈو کے دفتر سے شروع ہو کر سپر مارکیٹ میں ختم ہوئے تھے۔

2015 میں کیے گئے ان حملوں میں کُل 17 افراد مارے گئے تھے جنہیں دو بھائیوں سعید اور شریف نے کیا تھا، ان سب ملزمان کا ٹرائل جاری ہے ہے جبکہ بقیہ افراد پر مرکزی ملزمان کیلئے سہولت کاری کا الزام ہے۔

گستاخانہ خاکے بنانے والے میگزین 'چارلی ہیبڈو' کے سابقہ دفاتر کے قریب جمعہ کو چاقو کے حملے میں 4 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں جان بوجھ کر اسلاموفوبیا کی ترغیب دی گئی، عمران خان

خیال رہے کہ چارلی ہیبڈو کی جانب سے پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گستاخانہ شائع کیے گئے تھے جس پر پوری دنیا میں مسلمانوں میں غم و غصہ پھیل گیا تھا اور شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا تھا۔

پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک نے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 'پاکستان، فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہے۔'

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے لیے جان بوجھ کر کیے جانے والے اس اقدام کو آزادی اظہار یا آزادی صحافت کا نام دے کر کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔'

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی فرانسیسی جریدے کے 'گستاخانہ خاکے' دوبارہ شائع کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتہ وار میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'میں اپنی اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے چارلی ہیبڈو کی پرزور مذمت کرتا ہوں جس قسم کے خاکے انہوں نے شائع کیے اس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے'۔

وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ لوگ مشتعل ہیں، بلاجواز حرکت کی گئی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، 'ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کا رجحان دنیا میں بڑھتا جارہا ہے اور پاکستان نے ہر فورم پر اس کی نشاندہی کی ہے۔