میگا منی لانڈرنگ ریفرنس: آصف زرداری، فریال تالپور پر فرد جرم عائد

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

سابق صدر آصف علی زرداری—فائل فوٹو: اے ایف پی
سابق صدر آصف علی زرداری—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس سے متعلق میگا منی لانڈرنگ ضمنی ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے انور مجید اور عبدالغنی مجید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

وفاقی دارالحکومت میں احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے جعلی اکاؤنٹس کیس سے متعلق میگا منی لانڈرنگ ریفرنس، پارک لین ریفرنس اور ٹھٹہ واٹر سپلائی ریفرنس کی سماعت کی، جہاں سابق صدر آصف زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت میں سب سے پہلے میگا منی لانڈرنگ ریفرنس کا معاملہ آیا جہاں آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، انور مجید اور عبدالغنی مجید پر فرد جرم عائد کی گئی۔

اس موقع پر آصف زرداری، فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری کی 3 ضمنی ریفرنسز خارج کرنے کی درخواست مسترد

جس پر عدالت نے مذکورہ معاملے کی سماعت کو 13 اکتوبر تک ملتوی کردیا اور اسی روز تمام گواہان کو طلب کرلیا۔

بعد ازاں پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ آیا تاہم عدالت میں ملزم شیرعلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔

عدالت نے کہا کہ جب تک سارے ملزمان حاضر نہ ہوں فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی۔

ساتھ ہی مذکورہ ریفرنس میں فرد جرم کی کارروائی 5 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

علاوہ ازیں ٹھٹہ واٹر سپلائی ضمنی ریفرنس پر بھی سماعت ہوئی، جہاں 3 شریک ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اس پر عدالت نے تینوں ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور ریفرنس کی سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر 23 ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کی اپنے خلاف دائر 3 ضمنی ریفرنسز کو خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

عدالت کی جانب سے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آصف علی زرداری کو بری نہیں کیا جاسکتا، مذکورہ کرپشن ریفرنسز پر ان کے اوپر فرد جرم عائد کی جائے گی، اسی سلسلے میں عدالت نے انہیں 28 ستمبر کو طلب بھی کیا تھا۔

خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا اور میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں بری کرنے کی استدعا کی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ آصف زرداری نے مذکورہ معاملات میں فوری ٹرائل روکنے کی بھی درخواست دی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں بری کیا جائے، جعلی اکاونٹس کیسز نیب کے دائرہ اختیار نہیں، انہیں خارج کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پارک لین کیس: آصف زرداری و دیگر ملزمان کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر

یاد رہے کہ آصف زرداری کو میگا منی لانڈرنگ اسکینڈل کے معاملے میں متعدد مقدمات کا سامنا ہے جو جولائی 2018 کے عام انتخابات سے قبل ہی منظرعام پر آئے تھے۔

سابق صدر، ان کی بہن فریال تالپور اور متعدد دیگر کاروباری افراد کے خلاف سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل میں 29 'بینامی' اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی جعلی ٹرانزیکشنز سے متعلق 2015 کے کیس کے طور پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔

سابق صدر پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ 'پارتھینان پرائیویٹ لمیٹڈ، پارک لین اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کی طرف سے 'قرض میں توسیع اور اس کی غلط استعمال میں ملوث تھے'۔

نیب کے مطابق پارک لین کمپنی کو 'فرنٹ کمپنی' کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا تاکہ کالے دھن کو سفید کیا جاسکے۔

ان کے وکیل نے استدلال کیا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما پارک لین کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں لیکن انہوں نے صدر پاکستان کا منصب سنبھالنے سے قبل 2008 میں کمپنی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ٹھٹہ واٹر سپلائی کمپنی کا معاملہ سندھ کے محکمہ خصوصی اقدام کی جانب سے غیر قانونی طور پر نجی ٹھیکیدار ہریش اینڈ کمپنی کو ٹھٹھہ میں واٹر سپلائی اسکیم کا کنٹریکٹ دینے سے متعلق ہے۔