دو سال میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کو کبھی غیر مستحکم نہیں ہونے دیا، شبلی فراز

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان، پاکستان کا معاشی بیس کیمپ ثابت ہوگا۔

اسلام آباد میں وزیر امور کشمیر گلگت بلتستان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور ہم نے گزشتہ 2 برس میں کبھی کوشش نہیں کہ سیاسی مخالفیں کی حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار کریں۔

مزید پڑھیں: اسپیکر اسمبلی نے گلگت بلتستان پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منسوخ کردیا

انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے معاشی مشکلات کے باوجود گلگت بلتستان کے بجٹ میں اضافہ کیا۔

شبلی فراز کے مختصر بیان کے بعد وزیر برائے کشمیر امور اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف انتخابات سے متعلق مشاورت کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور میری طرف سے ایک مراسلہ بھی ارسال کیا گیا تاکہ آخر میں وہ دھاندلی کا شور نہ مچائیں۔

امن گنڈا پور نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کے لیے تمام امور احسن طریقے سے پورے ہوچکے تھے لیکن آخری مرحلے میں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے متنازع بیان دیا کہ 'کشمیر کا سودا کررہے ہیں'۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کا گلگت بلتستان کے انتخابات پر بات چیت میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھارت کو ناراض نہ کرنے کے لیے گلگت بلتستان کو اس کے حقوق نہیں دیے۔

امن گنڈا پور نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سوال کرتا ہوں کہ جب آپ کی حکومت تھی تو مذکورہ اقدامات کیوں نہیں اٹھائے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے لوگوں پر زور دیا کہ اپوزیشن ان کے حقوق پر گندی سیاست کررہی ہے اور ان لوگوں کے چہروں کو پہنچانیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں ہر فیملی کو ہیلتھ انشورنس دی جاری ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے دوران اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورتی کوششیں تیز کردی ہیں اور اپنے 26 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے پہلے اقدام کے طور پر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات پر بات چیت کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا باضابطہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اس رپورٹ کے بعد کیا۔

مزیدپڑھیں: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی تحلیل، میر افضل نگراں وزیراعلیٰ مقرر

جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے فون پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے اپوزیشن کے حالیہ تشکیل شدہ اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی۔

خیال رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے 15 نومبر کی تاریخ کا اعلان کیا تھا، اس سے قبل انتخابات 18 اگست کو ہونے تھے لیکن کورونا وائرس کے باعث ملتوی کردیے گئے۔