ڈینیئل پرل کیس: سپریم کورٹ نے ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان
وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت سندھ کو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل ساؤتھ ایشیا کے بیورو چیف ڈینیئل پرل کے والدین کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ نے دو اپریل کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید اور 20 لاکھ جرمانے میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی تھیں۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل، 3 ملزمان رہا

18سال سال قید میں گزارنے والے عمر سعید کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے امریکی صحافی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی لیکن سندھ ہائی کورٹ کی جانب ان کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس لحاظ سے وہ پہلے ہی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔

البتہ حکومت سندھ نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے تحت قتل کے الزام میں قید عمر سعید اور دیگر چار ملزمان کو 30 ستمبر تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

آج ہونے والی سماعت میں سینئر وکیل فاروق نائیک نے حکومت سندھ کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ شناخت پریڈ میں ٹیکسی ڈرائیور ناصر عباس نے مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کو شناخت کر لیا تھا۔

عمر سعید کو 13 جنوری 2002 کو گرفتار کیا گیا تھا اور 22 اپریل 2002 کو ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے میں کُل 23 گواہان تھے، اکبر انٹرنیشنل ہوٹل جہاں عمر سعید اور ڈینیئل پرل نے ملاقات کی تھی، وہاں کے ریسیپشنسٹ عامر افضل نے بھی شناخت پریڈ میں ملزم کو شناخت کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمر سعید شیخ: ایک طالبعلم سے مجرم تک کا سفر

جب عدالت نے پوچھا کہ یہ سازش کہاں تیار ہوئی تو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پس پردہ کئی ساری چیزیں چل رہی تھیں، جب عمر سعید امریکی صحافی سے ملے تو انہوں نے اپنا نام بشیر بتایا اور انہوں نے اپنا نام غلط بتایا کیونکہ ان کے ارادے درست نہیں تھے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ یہ ممکن ہے کہ قتل کرنے کا فیصلہ واردات سے محض چند لمحے قبل کیا گیا ہو جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ صحافی کو قتل کرنے کے بجائے ابتدائی منصوبہ تاوان لینے کا تھا۔

عدالت نے سوال کیا کہ ملزم پر جرم کیسے ثابت ہوا جبکہ نہ ہی کبھی لاش ملی اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کیا گیا جس پر حکومت سندھ کے وکیل نے جواب دیا کہ اغوا کے الزامات ثابت ہو گئے تھے اور سندھ ہائی کورٹ سزائے موت کی سزا میں تبدیلی کے بجائے دوبارہ ٹرائل کا حکم دے۔

جب عدالت نے پوچھا کہ ملزم کو کس نے شناخت کیا تو فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے انہیں شناختی پیریڈ میں پہچان لیا تھا۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: فیصلے کی معطلی کیلئے حکومت سندھ کی اپیل مسترد

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ٹیکسی ڈرائیور کا بیان حکومت کے اس مقدمے کی بنیاد ہے، ان کی لاش کبھی نہیں ملی تو ٹیکسی ڈرائیور نے ڈینیئل پرل کو کیسے شناخت کیا؟

اس پر سندھ حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے ڈینیئل پرل کی تصویر دیکھ کر انہیں شناخت کیا تھا۔

جسٹس امین نے مزید کہا کہ ملزم کو قتل اور اغوا برائے تاوان کے الزام سے بری کردیا گیا تھا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ نے اغوا کی سزا دے کر معاملہ نمٹا دیا تھا۔

عدالت نے حکام کو ملزمان کو رہا کرنے سے روکتے ہوئے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے 15 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی سندھ حکومت کی درخواست مسترد کری تھی۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل کیس میں 2 اپریل 2020 کو امریکی صحافی کے قتل میں نامزد 3 ملزمان کی رہائی کا حکم دیا تھا اور ایک ملزم احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینئیل پرل کے قاتلوں کو رہا کروانے کا منصوبہ ناکام

بعدازاں 29 اپریل کو حکومت سندھ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے لیے پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے تین درخواستیں دائر کی تھی جن میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور ملزمان کی سزائیں بحال کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

تاہم عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ فیصلہ معطل کرنے کے لیے دائر کردہ درخواست میں غیر متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا گیا۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے ملزمان 3 ماہ کیلئے زیرحراست

بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔

عدالت نے مقدمے میں نامزد 4 ملزمان کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی درخواست

واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی کی قتل کی ویڈیو کی ایک سرکاری عہدیدار (پی ٹی وی کے ایک ماہر) سے تصدیق کروائی گئی تھی جبکہ اسے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔

چنانچہ جمع شدہ ثبوتوں اور خاص کر ملزم اور شریک ملزمان کے اعترافی بیانات کے تناظر میں ہائی کورٹ کی جانب سے سزا میں تبدیلی اور بریت پائیدار نہیں اور اسے کالعدم ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: حکومت سندھ کی حکم امتناع کی درخواست مسترد

اسی طرح فطری اور آزاد شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تاوان کا مطالبہ ملزم نے ہی کیا تھا اور ڈاکیومینٹری ثبوت سے یہ بات ثابت بھی ہوئی چنانچہ سزا میں تبدیلی اور بریت غیر قانونی ہے۔

اپیل میں کہا گیا تھا کہ ملزم ایسا کوئی مواد پیش نہیں کرسکا جو پروسیکیوشن کے ثبوتوں کے خلاف شک پیدا کرتا بلکہ شریک ملزمان نے ریمانڈ کے دوران ٹرائل جج کے سامنے اپنا جرم قبول کیا۔

عدالت عظمیٰ میں دائر اپیل میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ اس کیس کے سنگین عوامل سمجھنے میں ناکام رہی جبکہ ملزم اور شریک ملزمان کی بریت اور سزائے موت میں تبدیلی کا فیصلہ انصاف کا قتل اور عدالت عظمیٰ کے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔