سی سی پی او لاہور نے آئی جی کے 'اختیارات' کو چیلنج کرکے نیا 'پنڈورا بکس' کھول دیا

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2020

ای میل

سی سی پی او لاہور عمر شیخ—فائل فوٹو: ڈان نیوز
سی سی پی او لاہور عمر شیخ—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور: کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پیز) کے تبادلے/تقرر میں صوبے کے موجودہ پولیس سربراہ (پی پی او) انعام غنی کے اختیارات کو 'چیلنج' کرتے ہوئے ایک 'پنڈورا بکس' کھول دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عمر شیخ کا یہ مؤقف ہے کہ لاہور میں ڈی ایس پیز کا تقرر آئی جی پولیس کے بجائے سی سی پی او کا دائرہ اختیار ہونا چاہیے۔

صوبائی پولیس چیف انعام غنی کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کو صوبائی دارالحکومت میں اپنی مرضی کے ڈی ایس پیز کے تقرر کے لیے اسی طرح کے اختیارات تفویض کیے جانے چاہئیں۔

عمر شیخ نے لکھا کہ ماضی میں ریجنل پولیس آفیسرز (آر پی اوز) اور لاہور پولیس چیف کی جانب اس طرح کے اختیارات کو استعمال کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سی سی پی او لاہور کے اپنے ذاتی سیکریٹری کو 'گرفتار' کروانے پر ملازمین کا احتجاج

خط میں کہا گیا کہ 'ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس پولیس (بی ایس-17) گریڈ کے افسران کے تقرر اور تبادلے کے اختیارات تمام ریجنرل پولیس افسران/سٹی پولیس افسران کو تفویض کیے گئے تھے'۔

اپنے مؤقف کی حمایت میں عمر شیخ نے آئی جی پی سے کہا کہ وہ انہیں بھی یہی اختیارات تفویض کریں تاکہ وہ ایک ٹیم بنائیں اور شہر میں بڑھتے جرائم کو قابو کریں۔

سی سی پی او کا کہنا تھا کہ 'ان دنوں میں ضلع لاہور میں جرائم کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سابقہ طرز عمل پر عمل کی ضرورت ہے'۔

ادھر ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ کچھ ہفتے قبل ایک ملاقات میں عمر شیخ نے پنجاب کی تاریخ کے 'طاقت ور' سی سی پی او ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جبکہ 'حالیہ قدم اسی تناظر میں ہے'۔

عمر شیخ کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ 'یہ درخواست کی جاتی ہے کہ ضلع لاہور میں ڈی ایس پیز کے تقرر اور تبادلے کے اختیارات عوامی تحفظ اور سلامتی کے بہترین مفاد میں سی سی پی او لاہور کو تفویض کیے جائیں'۔

کچھ پولیس افسران کو خوف ہے کہ سی سی پی او کا نیا قدم 2 اعلیٰ افسران کے درمیان ایک اور محاذ آرائی کا باعث بن سکتا ہے جیسا کہ عمر شیخ نے ماضی میں کیا تھا جب انہوں نے اپنے سابق باس شعیب دستگیر کے خلاف کچھ 'نامناسب' ریمارکس دیے تھے۔

دوسری جانب کچھ ان کے اس قدم کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لاہور سمیت تمام اضلاع میں ڈی سینٹرائلزیشن (مرکزیت) ہونی چاہیے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ طرز عمل جاوید اقبال کی مختصر مدت میں اس وقت اپنایا گیا تھا جب وہ (2011) میں پنجاب کے آئی جی پی تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت لاہور کے سی سی پی او اور کچھ آر پی اوز 21 ویں گریڈ میں کام کر رہے تھے اور (انہیں) یہ اختیارات تفویض کیے گئے تھے۔

تاہم افسر نے بتایا کہ یہ اسکیم اس وقت واپس لے لی گئی جب اس نے کچھ انتظامی مسائل پیدا کیے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ سی سی پی او نہ صرف 20 ویں گریڈ میں ہیں بلکہ انہیں 21ویں گریڈ کی سینئر پوزیشن کے برعکس تعینات کیا گیا تھا جبکہ ان کی شخصیت بھی 'جارحانہ' ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی سی پی او کے 'نامناسب رویے' پر لاہور پولیس عدم اطمینان کا شکار

انہوں نے مشورہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ یہ اختیارات حال ہی تعینات ہونے والے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب (21 ویں گریڈ کے افسر) کو تفویض کیے جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس موجودہ حالات کے تحت کئی علاقوں کی سربراہی ہے۔

علاوہ ازیں ایک اور عہدیدار نے اس قدم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کلیم امام نے کراچی پولیس سی سی پی او کو یہ اختیارات دیے تھے کہ وہ ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو تعینات کرسکیں۔

اس حوالے سے جب انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پولیس کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔


یہ خبر 30 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی