کووڈ 19 ویکسین کے ٹرائل کیلئے عوام سے رضاکارانہ طور پر سامنے آنے کی اپیل

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2020

ای میل

اعجاز اے خان نے کہا کہ ویکسین کے ضمنی اثرات بھی ہیں— فائل فوٹو: رائٹرز
اعجاز اے خان نے کہا کہ ویکسین کے ضمنی اثرات بھی ہیں— فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: پاکستان میں چینی کووڈ 19 ویکسین کے تیسرے مرحلے کی سربراہی کرنے والے معالج نے عوام سے ویکسی نیشن کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کی اپیل کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ہفتے ایڈ 5-این سی او وی کے لیے ٹرائل کا آغاز کیا تھا جسے کینسن بائیولوجکس اور ایک چینی فوجی حمایت یافتہ تحقیقاتی یونٹ کے تعاون سے تیار کردہ امیدوار ویکسین ہے اور یہ پاکستان میں پہلی بار بڑے پیمانے پر ویکسین کا ٹرائل ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز

اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ٹرائل کی سربراہی کرنے والے اعجاز اے خان نے کہا کہ جب بھی آپ کوئی نئی چیز متعارف کرواتے ہیں تو بہت سارے چیلنجز پیش آتے ہیں اور ویکسین اس کا حصہ ہوتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان جیسے ملک میں بھی ویکسین کے حوالے سے لوگوں میں زیادہ ہچکچاہٹ ہوتی ہے، لوگوں کو آکر رضاکارانہ طور پر کام کرنا چاہیے، لوگوں کو ہچکچانہ نہیں چاہیے، وہ حصہ لے سکتے ہیں اور کووڈ 19 میں لڑنے والی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان میں تین دہائیوں سے حفاظتی ٹیکوں سے بچاؤ کی مہمات کا حصہ رہنے والے اعجاز خان نے کہا کہ یہاں تک کہ موجودہ ویکسین کے بھی ضمنی اثرات ہیں اور اُمید ہے کہ ایڈ 5 این سی او وی اس بحث کا شکار نہیں ہو گا۔

شفا انٹرنیشنل پاکستان میں پہلے 5 آزمائشی مقامات میں سے پہلا مقام ہے اور انہوں نے کووڈ 19 ٹیسٹ کے لیے استعمال ہونے والی عمارت کو ٹرائل کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے اور امید ہے کہ اس میں 2،000 شرکا ہوں گے، رضاکار وقت لے کر پہنچ جاتے ہیں اور ان کو این جی اوز، ہسپتالوں اور کارپوریشنز کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے، رضاکاروں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہونی چاہیے، ان کا کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت نہیں آنا چاہیے، ان میں قوت مدافعت کی کمی نہیں ہونی چاہیے اور آزمائشی مدت تک حاملہ نہیں ہونا چاہیے، اعجاز خان نے کہا کہ سفر اور کھانے کے اخراجات کے لیے ایک وقت میں 2000 روپے معاوضہ فراہم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے شکار چند افراد متعدد کیسز کا باعث بن سکتے ہیں، تحقیق

اعجاز اے خان نے کہا کہ آزمائش کا اختتامی نقطہ لچکدار ہے لیکن ایک مقصد یہ ہے کہ یہ پلیسبو کے مقابلے میں 5 0فیصد زیادہ مؤثر ثابت ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ یہ وکسین صحیح ثابت ہو گئی تو توقع کی جارہی ہے کہ کینزبائیو کے ذریعے پاکستان کو ویکسین کی لاکھوں خوراکیں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔