سپریم کورٹ کا 5 لاپتا افراد کو 2 ہفتوں میں بازیاب کرانے کا حکم

01 اکتوبر 2020

ای میل

عدالت نے ایس ایس پی کرائم برانچ پر وردی کے بغیر عدالت میں پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت نے ایس ایس پی کرائم برانچ پر وردی کے بغیر عدالت میں پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ: سپریم کورٹ نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن کوئٹہ کو 5 لاپتا افراد کو 2 ہفتوں میں بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری حافظ باسط، رکن اسمبلی قادر نیال اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن کوئٹہ عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:چھ ماہ میں 200 لاپتا افراد بازیاب ہوئے، وزیر داخلہ بلوچستان کا دعویٰ

عدالت نے لاپتا افراد کے حوالے سے پولیس کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ایس ایس پی کرائم برانچ پر وردی کے بغیر عدالت میں پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ لوگ لاپتا ہورہے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو مقدمات درج کروانے کے لیے پولیس کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کو معلوم نہیں ایک کیس کی کس طرح تفتیش کی جاتی ہے، لاپتا ہونے کا کیس پولیس کے پاس درج ہونا تھا جو نہیں ہوا۔

عدالت نے کہا کہ ایکسائیز اور سی بی آر ریکارڈ کے لیے خط لکھ دیا گیا لیکن خطوط جاری کرنا پولیس کا کام نہیں ہے، پولیس کا کام جائے وقوع پر جا کر تفتیش کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: ’28 لاپتا افراد واپس آگئے ہیں

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اب تک یہ معلوم نہیں کہ مذکورہ افراد لاپتا ہوئے یا انہیں اغوا کیا گیا، تاہم ’کسی بھی صورت میں قانونی معاملات میں کارروائی کی جانی چاہیے‘۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کردی جو اسلام آباد میں ہوگی اور ساتھ ہی انسپکٹر جنرل (آئی جی) بلوچستان کو ویڈیو لنک کے ذریعے آئندہ سماعت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔