ایس این جی پی ایل کو گیس صارفین سے 115 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2020

ای میل

ای سی سی اجلاس میں اوگرا کو آرایل این جی سے چلنے والے سی این جی اسٹیشنز کو نئے لائسنس جاری کرنے کی مشروط اجازت بھی دی گئی۔ فوٹو:اے پی پی
ای سی سی اجلاس میں اوگرا کو آرایل این جی سے چلنے والے سی این جی اسٹیشنز کو نئے لائسنس جاری کرنے کی مشروط اجازت بھی دی گئی۔ فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) گندم کی صورتحال پر متعلقہ حکام کی طرف سے مبہم اشاروں اور بازار میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر پریشان نظر آرہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکوئیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) ٹیرف کے ذریعے 115 ارب روپے کی وصولی کی اجازت دی گئی جس میں ماضی کے قابل وصول 74 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

ای سی سی نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو آر ایل این جی سے چلنے والے سی این جی اسٹیشنز کو نئے لائسنس جاری کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔

لائسنس حاصل کرنے والے اسٹیشنز مقامی گیس حاصل نہیں کریں گے اور نہ ہی آر ایل این جی کو مقامی گیس میں تبدیل کرنے کا کلیم کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے کمرشل صارفین کیلئے گیس کے نرخوں میں اضافہ کردیا

واضح رہے کہ نئے لائسنسز کے اجرا پر 2008 سے پابندی تھی۔

اجلاس میں شریک ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کمیٹی کے ممبران نے گندم کی درآمد کے امور، طلب اور فراہمی کی صورتحال سے متعلق غیر منقولہ اعداد و شمار پیش کیا جانا اور وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ (ایم این ایف ایس آر) کے عہدیداروں کی نرخوں کے اعداد و شمار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جس سے عوام پریشان ہیں اور حکومت بدنام ہورہی ہے۔

معلومات رکھنے والے ذرائع نے کہا کہ ایم این ایف ایس آر پر تنقید کرنے والوں میں خود ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیر بجلی عمر ایوب خان اور معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر شامل تھے جبکہ وزیر برائے قومی خوراک تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے بھی اپنی وزارت کے عہدیداروں کی حمایت نہیں کی۔

ای سی سی ممبران نے ایم این ایف ایس آر کے فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ کیا کابینہ فورم کو اعتماد میں لیا جارہا ہے؟

اس کے علاوہ یہ سوالات بھی اٹھائے گئے کہ کیوں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے 274 ڈالر فی ٹن کے درآمد کے احکامات کو ختم کیا گیا اور پھر صرف کچھ ہی دن بعد روسی گندم 279 ڈالر فی ٹن میں خریدی گئی۔

ایم این ایف ایس آر نے اجلاس کو بتایا کہ 5 اکتوبر کو 3 لاکھ 30 ہزار ٹن کے لیے ٹی سی پی کا نیا ٹینڈر کھلا جس میں روسی گندم کی فی ٹن 278.5 ڈالر کی سب سے کم قیمت سامنے آئی اور وہ 49 ہزار 450 روپے فی ٹن یا ایک ہزار 978 روپے فی 40 کلو قیمت بنی۔

اس کے علاوہ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کی بنیاد پر روس سے ایک لاکھ 80 ہزار ٹن گندم کی درآمد 279 ڈالر فی ٹن میں حاصل کی گئی۔

وزارت نے یہ بھی بتایا کہ روس نے ’انتہائی مراعاتی نرخوں‘ پر 11 لاکھ 70 ہزار ٹن اضافی گندم کی پیش کش کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جنوری 2021 تک سپلائی کے لیے ٹی سی پی اور پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو بالترتیب 7 لاکھ 50 ہزار ٹن اور 4 لاکھ 20 ہزار ٹن کی خریداری کے لیے مقرر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی کی تجارت کیلئے افغانستان سے منسلک سرحد پر ایک اور 'کراسنگ' کھولنے کی منظوری

کابینہ کے ایک دو ممبران نے ’انتہائی مراعاتی نرخوں‘ کے بارے میں سوالات پوچھے لیکن وہ قیمت کے بارے میں جاننے سے قاصر رہے۔

اس پر روشنی ڈالی گئی کہ 274 ڈالر فی ٹن ٹنڈر کی منسوخی کے وقت ایم این ایف ایس آر نے روس سے درآمدات کا دعویٰ کیا تھا اور پھر روس کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی مدت ختم ہونے سے 12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں نوٹس میں اس قیمت کا انکشاف کیا تھا۔

ایک سینئر وزیر نے بتایا کہ گندم کا آٹا مارکیٹ میں ایک ہزار 400 زائد فی 20 کلو فروخت ہورہا ہے اور گندم کی دستیابی اور رسد کے اعداد و شمار ناقابل اعتبار ہیں جس کی وجہ سے اس کے اثرات حکومت کے فیصلہ سازی اور ساکھ پر پڑ رہے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے مشاہدہ کیا کہ ایم این ایف ایس آر مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین بغیر یہ سمجھے کہ یہ کس قیمت پر عام آدمی کے خریدنے کے قابل ہوگا، کررہی ہے۔

ایک اور وزیر نے روسی گندم کے معیار کے بارے میں سوالات کیے اور کہا کہ کیا یہ پاکستانی صارفین کے ذائقے کے مطابق ہے۔

ایم این ایف ایس آر کے سیکریٹری عمر حمید خان نے بتایا کہ روس تقریبا 4 کروڑ ٹن اضافی گندم کا ذخیرے کرکے بیٹھا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے کیا رعایت مل رہی ہے۔

ایم این ایف ایس آر کے سیکریٹری نے گندم کی صورتحال پر تبصرہ کرنے کے لیے ڈان کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے گندم کی مزید خریداری کے لیے گندم کی قیمت کے حوالے سے روس کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری تجارت اور سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی پر مشتمل کمیٹی قائم کردی ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے درآمد ہونے کی صورت میں تین لاکھ تیس ہزار میٹرک ٹن گندم پاسکو، پنجاب اورخیبرپختونخوا کو مساوی بنیادوں (ایک لاکھ 10 ہزارمیٹرک ٹن) پر فراہم کی جائیگی۔