بھارت: ہندو لڑکی کو مسلمان گھرانے کی بہو دکھانے کے اشتہار پر تنازع

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

تنشق ماضی میں بھی ایسے اشتہارات شائع کرتی رہی ہے—فوٹو: تنشق ٹوئٹر
تنشق ماضی میں بھی ایسے اشتہارات شائع کرتی رہی ہے—فوٹو: تنشق ٹوئٹر

بھارت میں زیورات کے ایک اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو لڑکی کو بہو کے طور پر دکھائے جانے پر تنازع پیدا ہوگیا، جس کے بعد کمپنی نے اشتہار کی ویڈیو ہٹادی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں شمار ہونے والے ’ٹاٹا‘ گروپ کی زیورات سے متعلق ذیلی کمپنی کے اشتہار پر انتہاپسند افراد نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

ٹاٹا گروپ کی ذیلی کمپنی ’تنشق‘ نے 12 اکتوبر کو زیورات کا ایک مختصر اشتہار جاری کیا تھا، جس میں ایک ہندو خاتون کو مسلمان گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا تھا۔

اشتہار میں مسلمان گھرانے کی جانب سے اپنی ہندو بہو کے حاملہ ہونے کے بعد اس کے آنے والے بچے کے لیے گود بھرائی کی رسم کو دکھایا گیا تھا۔

اشتہار میں ہندو بہو گود بھرائی کی رسم کے دوران اپنی مسلمان ساس سے جذباتی انداز میں پوچھتی ہیں کہ ان کے ہاں تو ایسی رسم نہیں ہوتی نا؟ جس پر ساس انہیں جواب دیتی ہے کہ بیٹی کو خوش کرنے کی رسم تو ہر گھر میں ہوتی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو بہو اپنی مسلمان ساس کا جواب سن کر مزید جذباتی ہوجاتی ہیں اور اسی دوران ہی ساس کی جانب سے بہو کو تنشق کے نئے زیورات تحفے کے طور پر دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تنشق کے بھارت کے متعدد شہروں میں دکان موجود ہیں—فوٹو: اے ایف پی
تنشق کے بھارت کے متعدد شہروں میں دکان موجود ہیں—فوٹو: اے ایف پی

رائٹرز کے مطابق مذکورہ اشتہار جاری کیے جانے کے بعد ابتدائی طور پر انتہاپسند ہندوؤں نے اعتراض کرتے ہوئے اشتہار کو ’لو جہاد‘ قرار دے کر زیورات کی کمپنی پر سخت تنقید کی۔

انتہاپسند ہندو خواتین کی جانب سے مسلمان مردوں سے شادی کرنے کو ’لو جہاد‘ کا نام دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان سے شادی کرنے کے بعد ان کا مذہب تبدیل کردیتے ہیں۔

اشتہار کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹوئٹر پر بھی ’بائیکاٹ تنشق‘ کا ٹرینڈ ٹاپ پر آگیا اور اشتہار کے حق اور مخالفت میں سیاستدان، صحافی، سماجی رہنما اور معروف میڈیا پرسنالٹیز بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کرنے لگیں۔

یہ بھی پڑھیں: خوبصورتی کی تشہیر کا اشتہار شوٹ کروانے پر روینہ کیخلاف مقدمہ

سوشل میڈیا پر انتہاپسند ہندوؤں کی سخت تنقید کے بعد اگرچہ زیورات کمپنی نے ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹادیا، تاہم اس کے باوجود مذکورہ اشتہار پر بحث و تنازع جاری رہا۔

اشتہار پر شروع ہونے والے بحث میں لوگوں نے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی شادیوں اور ’لو جہاد‘ پر بحث کی اور کئی افراد نے دعویٰ کیا کہ اشتہار کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی گئی کہ ہندو خواتین مرضی سے مسلمانوں سے شادی کرتی ہیں۔

اسی حوالے سے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اشتہار کی ویڈیو میں بھارت میں دو مذاہب کے افراد کے درمیان ہم آہنگی کو دکھایا گیا مگر انتہاپسند ہندوؤں نے ویڈیو کو اپنے خلاف قرار دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیورات کے اشتہار کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلانے والے افراد میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اہم ارکان بھی شامل تھے اور انہوں نے بھی ویڈیو کو ہندوؤں کے خلاف قرار دیا۔

امریکی اخبار کے مطابق مذکورہ اشتہار سمیت بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم میں 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اگرچہ ویڈیو کو کمپنی کی جانب سے ہٹایا جا چکا ہے تاہم ویڈیو کو اب بھی کئی لوگ شیئر کر رہے ہیں اور سیکولر بھارتی انتہاپسندوں کے رویے پر افسوس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

ویڈیو کے خلاف انتہاپسندوں کے احتجاج پر نامور بھارتی سیاستدان ششی تھرور نے بھی افسوس کا اظہار کیا اور ساتھ ہی انہوں نے مذکورہ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اشتہار میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے اتحاد کو دکھا گیا ہے اور ایسے اشتہار پر تنگ نظر لوگوں نے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ایسے افراد دنیا میں ہندو مسلم اتحاد کی سب سے بڑی علامت بھارت کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے؟

دوسری جانب کمپنی نے جہاں اشتہار کی ویڈیو کو ہٹادیا ہے، وہیں کمپنی نے انتہاپسندوں کے آگے جھکتے ہوئے معافی نامہ بھی جاری کیا۔

تنشق جیولرز کی جانب سے سوشل میڈیا پرجاری معافی نامے میں وضاحت کی گئی کہ اشتہار بنانے کا مقصد ملک میں مختلف نظریات اور طبقات سے وابستہ افراد کو اتحاد کے طور پر دکھانا تھا تاہم ویڈیو کا مواد بعض افراد کے لیے تکلیف کا باعث بنا، جس پر کمپنی معافی کی طلب گار ہے۔

زیورات کی کمپنی کی جانب سے انتہاپسندوں سےمعافی مانگے جانے پر بھی کئی افراد نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا اس سے کمپنی کے کمزور پڑنے کا عندیہ ملتا ہے۔