ایف پی سی ایس، ایم ڈی/ایم ایس کیلئے حکومتی پالیسی کے خلاف نشستیں مختص

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

ریزیڈنسٹی پروگرام کو جولائی 2016 میں معتارف کروایا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
ریزیڈنسٹی پروگرام کو جولائی 2016 میں معتارف کروایا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: حکومت پنجاب کی جانب سے 2 حریف پوسٹ گریجویٹ پروگرامز ڈاکٹر آف میڈیسن (ایم ڈی)/ ماسٹر آف سرجری (ایم ایس)/ ماسٹر آف ڈینٹل سرجری اور فیلو آف کالج آف فیزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (ایف سی پی ایس) کے ساتھ یکساں برتاؤ کے لیے متعارف کراوئی گئی پہلی اسٹرکچرڈ اسکیم کو اس وقت دھچکا لگا جب محکمہ صحت نے ایف سی پی ایس ہولڈرز کے لیے 69 اور ایم ڈی/ایم ایس قابلیت والوں کے لیے صرف 9 نشستیں مختص کردیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ریزیڈنسٹی پروگرام کو جولائی 2016 میں معتارف کروایا گیا تھا جس کا واحد مقصد ایم ڈی/ایم ایس اور ایف سی پی ایس کے طلبہ کو مساوی موقع (ہر ایک میں 50 فیصد نشتسیں مختص) فراہم کرنا شامل تھا۔

اس سلسلے میں اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سیکریٹری کی جانب سے تمام اداروں کو 3 ماہ کا وقت دیا گیا تھا کہ وہ جامعات سے اپنے پروگرامز کو منظور کروائیں لیکن اداروں نے اس کو نظرانداز کردیا۔

اس حوالے سے دیے گئے اشتہار کے مطابق مختلف خصوصیات میں لیول 4 کے پروگرامز کو شامل کرنے کے لیے 13 سرکاری میڈیکل اور ٹیچنگ اداروں کے لیے 78 نشستیں مختص کی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل تشکیل دے دی،نوٹی فکیشن جاری

تاہم پنجاب میں 13 سرکاری اداروں میں سے 9 میں ایم ایس/ایم ڈی میڈکس کے لیے سیکنڈ فیلوشپ (لیول 4) کو شامل کرنے کے لیے کوئی نشست نہیں مختص کی گئی۔

ان اداروں میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور، علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی، نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان، انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ ملتان، چوہدری پرویز الٰہی انسٹیٹی آف کارڈیولوجی ملتان، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی لاہور اور فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی شامل ہیں۔

پنجاب میں سرکاری شعبے کے 13 میں سے 9 اداروں میں ایم ایس / ایم ڈی طب کے لیے سیکنڈ فیلوشپ (لیول -4) کو شامل کرنے کے لیے کوئی نشست مختص نہیں کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ دیگر 4 اداروں میں 19 نشستیں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں خصوصیات کے پروگرامز کو شامل کرنے کے لیے 19 نشستیں مختص کی گئیں، جس میں 14 ایف سی پی ایس اور صرف 5 ایم ڈی/ایم ایس ڈاکٹرز کے لیے ہیں۔

انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ لاہور میں 14 نشستوں میں سے 12 ایف سی پی ایس اور صرف 2 ایم ایس/ایم ڈی ڈاکٹرز کے لیے مختص کی گئیں، یہی صورتحال سروسز ہسپتال کی بھی تھی جہاں 5 نشستوں میں سے 4 ایف سی پی ایس اور صرف ایک ایم ایس/ایم ڈی ڈاکٹرز کے لیے مختص تھی۔

اسی طرح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ/لاہور جنرل ہسپتال میں 2 نشستیں ایف سی پی ایس اور صرف ایک ایم ایس/ایم ڈی ڈاکٹرز کے لیے مختص ہے جبکہ تمام اُمیدواروں کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 ستمبر تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (جو اب پاکستان میڈیکل کونسل) ہوگئی ہے اس کے قوائد کے مطابق دونوں حریف پروگرامز ایف سی پی ایس اور ایم ڈی/ ایم ایس مساوی لیول 3 کی قابلیت ہے۔

اس حوالے سے ایک سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ بظاہر مفادات کے ٹکراؤ میں زیادہ تر سرکاری جامعات اور کالجز نے ایف سی پی ایس کی قابلیت پر اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے ایم ڈی/ایم ایس پروگرامز چلانے کے لیے اپنے اداروں کو رجسٹرڈ (ریکاگنائز) نہیں کروایا۔

انہوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ پنجاب میں زیادہ تر سرکاری ادارے ایف سی پی ایس ڈپلومہ رکھنے والوں کی سربراہی میں تھے اور ایم ڈی/ایم ایس پروگرامز میں داخلے کے خواہشمند طلبہ مبینہ طور پر اس کا شکار ہورہے تھے۔

اس پیش رفت کا ایک اور خامی یہ تھی کہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ نے سرکاری اداروں کو اپنے ڈپارٹمنٹس کو ایم ڈی/ایم ایس کے لیے رجسٹرڈ کروانے کے لیے 3 ماہ کا وقت دیا تھا تاہم عہدیدار کا کہنا تھا کہ وائس چانسلرز، پرنسپلز اور اداروں کے سربراہوں نے جان بوجھ کر ان احکامات کی خلاف ورزی کی۔

ایم ڈی/ایم ایس طلبہ کے تحفظات کو نظرانداز کرتے ہوئے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ نے بڑے پیمانے پر ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا کیونکہ اس نے نہ تو حکم کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا اور نہ ذمہ دار اداروں کے سربراہوں کے خلاف کوئی تحقیقات کیں۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیکل کمیشن کے ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کے فیصلے نے طلبہ کو حیران کردیا

عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ابھی تفتیش نہیں ہوسکی کہ اشتہار کس طرح شائع ہوا اور پنجاب ریزیڈنسی پروگرام پالیسی کی خلاف ورزی میں کون ملوث تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں صورتحال خراب ہے، جہاں ایم ڈی/ایم ایس ڈاکٹرز کے خلاف مبینہ طور پر انتقامی ردعمل دیگر سرکاری اداروں کے مقابلے میں زیادہ واضح ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے ایم ڈی/ایم ایس قابلیت کے حامل امیدواروں کو اپنے ایف سی پی ایس ساتھیوں کے لیے مختص نشستوں کے خلاف درخواست دینے سے روک دیا، جسے لیول 4 پروگرامز میں شامل کرنے کی تشہیر کی گئی تھی۔

دوسری جانب اسی مقصد کے لیے ایف سی پی ایس امیدواروں کو اسی مقصد کے لیے ایم ڈی/ایم ایس میڈکس کے لیے مختص نشستوں کے خلاف درخواست دینے کی اجازت دی گئی ہے۔