آرمینیا، آذربائیجان کے درمیان نئی جنگ بندی، خلاف ورزیوں کی بھی اطلاعات

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

لڑائی اور گولہ باری سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے جن میں جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں—فوٹو: اے پی
لڑائی اور گولہ باری سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے جن میں جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں—فوٹو: اے پی

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ بندی کی دوسری کوشش کے باوجود متنازع علاقے ناگورنو-کاراباخ میں فریقین نے ایک دوسرے پر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق 27 ستمبر کو آرمینیا اور آذربائیجانی فوج کے مابین لڑائی شروع ہونے کے بعد جنگ بندی کے قیام کی دوسری کوشش تھی جس کا اعلان گزشتہ روز کیا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں: آذربائیجان کے شہر میں میزائل حملہ، 12 افراد ہلاک

لڑائی اور گولہ باری سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے جن میں جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

آرمینیائی فوجی عہدیداروں نے اتوار کے روز بتایا کہ آذربائیجان کی فورسز کی جانب سے رات گئے ناگورنو-کاراباخ پر گولہ باری کی گئی۔

آرمینیائی وزارت دفاع کے ترجمان شوشان اسٹیپیان نے بتایا کہ صبح کے وقت 'دشمن نے ناگورنو-کاراباخ زون کی جنوبی سمت میں حملہ کیا' اور 'دونوں اطراف سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں'۔

دوسری جانب آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کہا کہ آرمینیائی فوج نے جنگ بندی کے باوجود راتوں رات متنازع علاقے میں مارٹر اور توپ خانے کا استعمال کیا اور صبح کے وقت کئی اطراف سے حملوں کی کوششیں کیں۔

وزارت نے آرمینیا پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ دونوں ممالک کی سرحد کے ساتھ واقع ناگورنو-کاراباخ کے شمال میں دو علاقوں میں آذربائیجان کی فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز آذربائیجان کے شہر گانجا میں میزائل حملے میں کئی مکانات تباہ ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب چند گھنٹوں قبل ہی آذربائیجان کی افواج نے آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کے دارالحکومت اسٹیپناکرٹ پر گولہ باری کی تھی۔

علاقائی قوت روس اور ترکی کے اس لڑائی میں شامل ہونے کے بعد سے عیسائی اکثریتی آرمینیا اور مسلمان اکثریتی آذربائیجان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو حملوں نے بظاہر نقصان پہنچایا ہے۔

دہائیوں پرانا تنازع

خیال رہے کہ رواں سال ستمبر کے آخری ہفتے میں دہائیوں سے جاری ناگورنو-کاراباخ تنازع کا ایک بار پھر آغاز ہوا اور اب تک 80 عام شہریوں سمیت تقریبا 700 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ نیگورنو-کاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے اختتام کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں: آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری

اس جنگ میں تقریباً 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آرمینیا، جو ناگورنو-کاراباخ کی پشت پناہی کرتا ہے تاہم اس کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا ہے، نے اعتراف کیا ہے کہ آذربائیجان کی افواج نے گزشتہ ہفتہ سرحد پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اے ایف پی کی ایک ٹیم کو آذربائیجان کی فوج ایرانی سرحد کے قریب متنازع علاقے کے جنوبی حصے میں دوبارہ قبضہ کرلی گئی ایک بستی میں لے کر گئی۔

آذربائیجان کے عہدے داروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے آخری بار جبرائیل کا کنٹرول سویت جنگ کے بعد حاصل کیا تھا، موجودہ کشیدگی اس 6 سالہ تنازع کے بعد مہلک اور طویل ترین ہے۔