اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا دوطرفہ ویزا فری سفر کے معاہدے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

اب اماراتی، عرب دنیا میں پہلے شہری ہوں گے جنہیں اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی — فوٹو: اے ایف پی
اب اماراتی، عرب دنیا میں پہلے شہری ہوں گے جنہیں اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی — فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے دوطرفہ ویزا فری سفر کے معاہدے پر اتفاق کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس پیش رفت کے بعد اب اماراتی، عرب دنیا میں پہلے شہری ہوں گے جنہیں اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 'تاریخی امن معاہدہ'

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین امریکا کے تعاون سے 'امن معاہدے' کے بعد ویزا فری سفر سے متعلق معاہدہ ایسے وقت پر ہوا جب ابوظہبی سے ایک وفد باقاعدہ طور پر تل ابیب پہنچا۔

اس موقع پر چہرے پر ماسک پہنے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یو اے ای کے وفد سے ملاقات کی اور مذکورہ دورے کو 'امن کے لیے سنہری' قرار دیا۔

دوسری جانب فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی مذمت کی گئی جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ 'آج ہم تاریخ کو اس طرح سے تشکیل دے رہے ہیں جو نسلوں تک قائم رہے گی'۔

دونوں ریاستوں نے 4 معاہدوں پر دستخط کیے جن میں ایک 'شہریوں کو ویزا سے استثنیٰ دینے' سے متعلق ہے۔

بینجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت سے اسرائیلی اور اماراتی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی نے ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کا امن منصوبہ مسترد کردیا

خیال رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تعلقات کو معمول پر لائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کریں گے۔

بعدازاں قریبی ملک بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین وہ تیسرے اور چوتھے عرب ممالک ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں جبکہ مصر اور اردن بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کر چکے ہیں۔

ایک اسرائیلی وفد گزشتہ روز معاہدے کو باضابطہ شکل دینے کے لیے بحرین روانہ ہوا تھا۔

خیال رہے کہ نام نہاد 'ابراہام معاہدہ'، جو اب اسرائیل اور دیگر خلیجی ریاستوں کے درمیان طویل عرصے سے خفیہ تعلقات کو سامنے لے آیا ہے جس کی بنیاد حالیہ سالوں میں خطے میں موجود مشترکہ حریف ایران کے حوالے سے تشویش پر رکھی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: فلسطینیوں نے متحدہ عرب امارات-اسرائیل معاہدے کو یکسر مسترد کردیا

امریکا کے توسط سے ہونے والے ان معاہدوں پر فلسطینی غم و غصے کا اظہار کرچکے ہیں، جن کے رہنما ان معاہدوں کو عرب کے دیرینہ مؤقف کے برخلاف قرار دیتے ہیں اور جن کے مطابق اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک فلسطینی اپنی ایک آزاد ریاست حاصل نہ کر لیں۔