ملک کے 5 سال سے کم عمر 40 فیصد بچوں کو نشوونما میں مشکلات کا سامنا

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

کم عمر بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹ—فوٹو: قومی غذائی سروے 2018 رپورٹ
کم عمر بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹ—فوٹو: قومی غذائی سروے 2018 رپورٹ

ملک میں پہلی بار بڑے پیمانے پر کیے گئے قومی غذائی سروے سے پتا چلا ہے کہ ملک کے 5 سال سے کم عمر 40 فیصد بچوں کو ناقص غذا کے باعث نشوونما میں مسائل کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ملک میں 5 سال سے کم عمر ہر 10 میں سے چار بچے نشوونما میں رکاوٹ کے مسائل کا شکار ہیں جب کہ 2 سے 5 سال کی عمر کے 13 فیصد بچے کسی نہ کسی طرح کی جسمانی معذوری کا بھی شکار ہیں۔

قومی سروے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ ہر 8 میں سے 2 نوعمر لڑکیاں جب کہ ہر پانچ میں سے ایک نوعمر لڑکا بھی وزن کی کمی کا شکار ہے۔

اسی طرح بلوغت کی عمر کو پہنچنے والی ملک بھر کی نصف لڑکیاں خون کی کمی کا بھی شکار ہیں۔

مذکورہ نتائج حال ہی میں وزارت قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کی جانب سے قومی غذائی سروے 2018 کے نام سے جاری کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور غذائی قلت

مذکورہ سروے کو برطانوی حکومت کی مالی معاونت اور بچوں سے متعلق اقوام متحدہ (یو این) کے ذیلی ادارے یونیسیف کی تکنیکی معاونت سے مکمل کیا گیا۔

سروے کو قومی ادارہ صحت کی نگرانی میں آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) نے مکمل کیا۔

قومی غذائی سروے 2018 کی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر قومی ادارہ صحت کے ڈاکٹر بصیر اچکزئی نے بتایا کہ مذکورہ سروے اب تک کا ملک میں ہونے والا سب سے بڑا سروے ہے، جس میں ایک لاکھ 15 ہزار 500 گھرانوں کا سروے کیا گیا۔

سروے میں بتایا گیا کہ تولیدی عمر کی خواتین بھی غذائی قلت کا شکار ہیں اور ملک بھر کی 14 فیصد خواتین شدید و ناقص غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہیں۔

نتائج سے پتا چلتا ہے کہ اگرچہ 2011 کے مقابلے میں ملک بھر میں موٹاپے میں اضافہ ہوا تاہم اس کے باوجود زیادہ تر بالغ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2011 میں ملک بھر میں موٹاپے کی شرح 28 فیصد تھی جو 2018 میں بڑھ کر 38 فیصد ہوگئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان سے غذائی قلت کے خاتمے کے لیے دوسرے ملک مالی مدد کریں گے

ڈاکٹر بصیر اچکزئی کے مطابق سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے 5 سال سے کم عمر ہر 10 میں سے 2 بچے نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں۔

سروے کی اشاعت سے متعلق ہونے والی تقریب کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ملک میں غذائی قلت کا معاملہ اس وقت حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے اور وزیر اعظم کی خصوصی ہدایات پر اس پر قابو پانے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج حکومت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور حکومت منظم منصوبہ بندی کے ساتھ دیگر اداروں کی معاونت سے غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے پُرامید ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں میں غذائی قلت کا معاملہ خطرناک صورتحال کی عکاسی کر رہا ہے اور اس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تقریب میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیولپمنٹ جم کارپی کا کہنا تھا کہ سروے حکومت کو بچوں، بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیوں اور حاملہ خواتین میں غذائی قلت کی صورتحال سے باخبر رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

اس موقع پر یونیسیف کی کنٹری ترجمان آئڈا گرما کا کہنا تھا کہ سروے حکومت کو غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا عندیہ دے رہا ہے، کیوں کہ ملک میں کم عمر بچے، بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیاں اور خواتین سخت غذائی قلت کا شکار ہیں۔