بھارتی جاسوسوں کی رہائی سے متعلق درخواست پر وزارت داخلہ، خارجہ سے جواب طلب

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی مجرموں کی جیل سے رہائی کی درخواست پر وزارت داخلہ اور خارجہ سے جواب طلب کر لیا— فائل فوٹو بشکریہ اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی مجرموں کی جیل سے رہائی کی درخواست پر وزارت داخلہ اور خارجہ سے جواب طلب کر لیا— فائل فوٹو بشکریہ اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے چار بھارتی مجرموں کی جیلوں سے رہائی کی درخواست پر وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کردیے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے چار بھارتی مجرموں کی جیلوں سے رہائی کی درخواست پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: بھارتی جاسوسوں کی رہائی کی درخواست ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوادی گئی

بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل شاہ نواز نون ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمان اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں لیکن قید کی سزائیں پوری کرنے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر قیدیوں کی سزائیں پوری ہوچکی ہیں تو انہیں کیوں رہا نہیں کررہے؟ ملزمان کو کس عدالت نے سزا سنائی تھی؟

بھائی ہائی کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ فوجی عدالت نے آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں سنائیں جو پوری ہوچکی ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سید محمد طیب شاہ نے کہا کہ میں آئندہ سماعت پر حکومت سے ہدایات لے کر جواب دوں گا۔

عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت تک تحریری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی اپنے 4 جاسوسوں کی رہائی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری خارجہ کی جانب سے مجاز افسران آئندہ سماعت پر پیش ہوں۔

واضح رہے کہ درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری خارجہ امور فریق بنایا گیا ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سزا یافتہ 3 بھارتی مجرم لاہور جبکہ ایک کراچی کی جیل میں قید ہے۔

پٹیشنرز کو آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئی تھیں اور وہ یہ سزا پوری کر چکے ہیں۔

کیس کی مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی ہائی کمیشن نے لاہور کی سینٹرل جیل میں قید بِرجو دنگ عرف بِرچھو، کمار گھنشیام کمار اور ستیش بھوگ جبکہ کراچی کی سینٹرل جیل میں قید سونو سنگھ کی رہائی کی درخواست کی۔

پٹیشن میں کہا گیا کہ ’قیدیوں نے فوجی عدالتوں یعنی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کی سنائی گئی سزا پوری کرلی ہے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’قیدیوں کو پاکستانی فوج کے حکام نے گرفتار کیا تھا اور ان پر پاکستان آرمی ایکٹ 1954 کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔

ہائی کمیشن نے اپنی درخواست میں جاسوسں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا‘۔

خیال رہے کہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’قیدیوں نے اپنی متعلقہ سزا پوری کرلی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کا آئین واضح الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق زندگی یا آزادی سے محروم نہیں رکھا جائے گا، یہ دفعہ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 21 سے کافی مماثلت رکھتی ہے جو زندگی اور آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے‘۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی ملک کے کسی بھی فرد کو پاکستانی حکام کی جانب سے رکھا جاتا ہے تو وہ یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی زندگی اور آزادی کے لیے قانون کے شاندار تحفظ تک ان کو رسائی دی جائے گی کیونکہ ان کے نزدیک یہ حقوق اور وقار کا معاملہ ہے۔

درخواست کے مطابق پاکستانی آئین کا آرٹیکل 10 (اے) تمام کے مصفانہ ٹرائل کو یقینی بناتا ہے اور آرٹیکل 4 میں یہ کہا گیا ہے کہ ’ہر دوسرا فرد پاکستان میں قانون کے تحفظ میں ہے اور اس طرح کے فرد کے حقوق سے قانون کے تحت ہی نمٹا جائے گا‘۔

درخواست میں الزام لگایا تھا کہ ان آئینی شقوں کے باوجود بدقسمتی سے حکام نے ان قیدیوں کو قانونی حقوق سے محروم کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے ایک اور بھارتی ’جاسوس ڈرون‘ مار گرایا

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق اپرنا رائے نے سیکریٹری خارجہ کو کئی مرتبہ زبانی پیغام بھیجے کہ چونکہ یہ قیدی اپنی سزا پوری کرچکے ہیں تو انہیں رہا اور وطن واپس بھیجا جائے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا ’انسانیت اور عام اخلاقیات کی خاطر درخواست گزاروں کی جانب سے مدعا علیہ نمبر 2 (سیکریٹری امور خارجہ) سے درخواست کی تھی کہ سابق مجرمان کو جیلوں سے رہا کیا جائے لیکن مدعا علیہ نمبر 5 (اپرنا رائے) کی جانب سے اٹھائے گئے تمام معقول اور حقیقی اعتراضات کو مسترد کردیا گیا‘۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اس وقت متعلقہ قیدیوں کی حراست غیر قانونی ہے، لہٰذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ سرکاری حکام کو ہدایات جاری کریں کہ وہ انصاف کے تحت ان قیدیوں کو رہا کرے اور انہیں واپس ان کی سرزمین بھارت جانے دے۔