آرمی چیف کا ایل او سی کا دورہ، جوانوں کی آپریشنل تیاریوں کی تعریف

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

آرمی چیف نے جوانوں کو بھارتی شیلنگ سے متاثرہ مقامی افراد سے تعاون کرنے کی ہدایت کی— فوٹو: آئی ایس پی آر
آرمی چیف نے جوانوں کو بھارتی شیلنگ سے متاثرہ مقامی افراد سے تعاون کرنے کی ہدایت کی— فوٹو: آئی ایس پی آر

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چھمب سیکٹر کا دورہ کیا اور جوانوں کی آپریشنل تیاریوں کی تعریف کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ آرمی چیف کو اس دورے کے موقع پر بھارت کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں سمیت آپریشنل تیاریوں سے آگاہ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کو بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی کے قریب رہنے والے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے افسران اور جوانوں سے ملاقات کے دوران ان کی انتھک اور غیر معمولی تیاریوں کو سراہا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘آرمی چیف نے جوانوں پر زور دیا کہ وہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے متاثر ہونے والی مقامی آبادی سے بھرپور تعاون کریں’۔

مزید پڑھیں: ایل او سی: بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا سپاہی اور ایک نوجوان شہید

آرمی چیف نے جوانوں سے کہا کہ ‘ہر دم ثابت قدم رہیں، اپنے فرائض پوری ایمان داری اور عزم کے ساتھ ادا کریں’۔

قبل ازیں کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹننٹ جنرل اظہر عباس نے آرمی چیف کا ایل او سی پر استقبال کیا۔

خیال رہے کہ آرمی چیف نے ایل او سی کا یہ دورہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی جانب سے اقوام متحدہ کو بھارت کی جارحیت پسند پالیسیوں اور عسکری عزائم سے عالمی سطح پر امن و استحکام کو درپیش خطرات سے آگاہ کرنے کے ایک ہفتے بعد کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عالمی سیکیورٹی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز ایل او سی کے اطراف میں روزانہ آرٹلری فائر کر رہی ہیں اور پاکستان کی طرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘بھارت نے 2019 میں 3 ہزار سے زائد مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور رواں برس اب تک 2 ہزار 400 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے’۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کی اشتعال انگیزی بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جارحیت پسند دھمکیوں کا حصہ ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری میں پاکستان تنہا نہیں ہے، اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے ان اشتعال انگیزیوں اور دھمکیوں پر تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن ہم فروری 2019 میں اس کا مظاہرہ کرچکے ہیں کہ پاکستان اپنی تمام تر صلاحیت کے ساتھ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا’۔

یاد رہے کہ ایل او سی پر بھارت کی شیلنگ سے گزشتہ ہفتے ہی کوٹلی کے گاؤں میں دو شہری زخمی ہوئے تھے۔

اس قبل 29 ستمبر کو ایل او سی کے ساتھ بروہ اور تندر سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیا، جس کے نتیجے میں بھارتی پوسٹس سمیت جانی و مالی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

قبل ازیں 27 ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید ہوگیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ بھارتی فوج نے ایل او سی کے کوٹ کوٹیرا سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی، تاہم پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیا تھا اور بھارتی فوجی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا تھا جس سے اسے جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔