مسلم لیگ (ن) کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار نواز شریف، شہباز شریف اور مریم صفدر ہیں، شہباز گل

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2020

ای میل

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں — فوٹو:ڈان نیوز
وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں — فوٹو:ڈان نیوز

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار تین لوگ ہیں، نواز شریف، شہباز شریف اور مریم صفدر۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام میں بھی کسی جھوٹے یا مکار کی گواہی کو نہیں مانا جاتا، پاکستان کی عدالتوں میں بھی کرمنل ریکارڈ کے لوگوں کی گواہی نہیں مانی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ مریم صفدر نے جعلی دستاویزات جے آئی ٹی میں جمع کرائی جو اقدام جرم ہے، اس کے بعد تو ان کو بیان بازی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آج یہ جیل سے اس لیے باہر ہیں کیونکہ اس وقت انہوں نے کہا کہ میرے والد بیمار ہیں اور میں نے تیمارداری کرنی ہے، یہ رحم کی بھیک مانگتی تھیں اور کہتی تھیں کہ والد کی تیمارداری کے لیے ضمانت دی جائے’۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ‘اس خاندان کے کملوں نے بھی مال بنایا، چند روز میں شہزاد اکبر عوام کے سامنے تفصیلات لے کر آئیں گے’۔

کراچی واقعے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج آئی اس میں ایک چیز پر ہم نے توجہ نہیں دے سکے تھے، کہا گیا کہ دروازہ توڑا گیا اور پولیس کے علاوہ بھی لوگ آئے اور اداروں کے خلاف ایک بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانوی وزیر اعظم سے بات کرنا پڑی تو کروں گا، عمران خان

انہوں نے کہا ہ ’سی سی ٹی وی فوٹیجز جو جاری کی گئیں ان میں کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ ایک شخص کو ویڈیو بناتے دیکھا گیا جو ان کا نجی کیمرا مین ہے، اگر دروازہ ٹوٹا ہے تو اس کیمرے کی ویڈیو بھی شیئر کریں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘آپ کے پاس اپنی ویڈیو ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں دے رہے ہیں، یہ سارا ڈراما بناوٹی تھا ہر فوٹیج میں اس کیمرا مین کو دیکھا گیا ہے، یہ آپ کے فوٹیج آپ کے پاس ہی ہے تو آپ عوام کے سامنے کیوں نہیں لاتے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بلاول بھٹو زرداری بیان دیتے ہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے تحقیقات کی اپیل کرتا ہوں، کیپٹن صفدر نے کہا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نوٹس لیں، مریم اورنگزیب نے کہا کہ آرمی چیف کو نوٹس لینا چاہیے تاہم مریم صفدر کہتی ہیں کہ حکومت اور عدلیہ کو نوٹس لینا چاہیے تھا کسی اور کو نہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ لوگ گھر میں فیصلہ کرلیں کہ کس سے نوٹس دلوانا ہے’۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ‘سندھ حکومت کی اپنی پولیس تھی، آپ کے کہنے پر اس کے افسران چھٹی پر بھی چلے گئے جو اس سے قبل اومنی گروپ کے گواہان کو بدلنے پر تو کبھی چھٹی پر نہیں گئے تھے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘قائد اعظم کے مزار کی بے حرمتی سب نے دیکھی یہاں دروازہ توڑنے کی فوٹیج آپ کے پاس موجود ہے آپ وہ ویڈیو کیوں نہیں سامنے لاتیں’۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو فوج نے پال کر سیاست دان بنایا، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ ‘اصل مسئلہ یہی تھا کہ مادر جھوٹ کو مادر ملت بننا ہے، یہ لوگ مریم صفدر کو مادر ملت بنانا چاہتے ہیں جنہیں سپریم کورٹ کی جے آئی ٹی اور اعلیٰ عدالتیں جھوٹا کہہ چکی ہیں’۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘یہ ڈراما اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ این آر او مانگ رہے تھے، ایک سال تک انہوں نے این آر او مانگا، نواز شریف باہر چلے گئے تو انہوں نے کہا کہ مریم صفدر کو اپنے والد کی دیکھ بھال کے لیے باہر جانے دیا جانا چاہیے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اشرافیہ کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے، چھوٹے موٹے جرم پر ہزاروں عورتیں جیلیں کاٹ رہی ہیں مگر یہ نواز شریف کی بیٹی ہیں اس لیے باہر گھوم رہی ہیں، یہ حکومت اور عدلیہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم نے کیپٹن (ر) صفدر کو پکڑنا ہو تو بہت چیزیں ہیں انہیں پکڑنے کے لیے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر بھارتی میڈیا نے کہا کہ پاک فوج نے سندھ حکومت کا تختہ الٹ دیا، کسی نے کہا کہ واقعے میں 2 لوگ مرگئے جبکہ بھارتی فوج کے جنرل سنجے کلکرنی نے کہا کہ بلاشبہ پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہوچکی ہے اور یہاں تک کہ ایک نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے خود کو چین کے آگے فروخت کردیا ہے’۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ‘ان کا سودا تو یہ ہے کہ یہ اپنی کرپشن بچائیں مگر بھارت نے بدلے میں چین، سی پیک، فوج کو نشانہ بنایا، یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ ڈراما تھا’۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا حملہ آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر ہے، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ ‘مریم صفدر ہمیشہ جھوٹ بولتی ہیں، ان کی تعلیم کم ہے اس لیے وہ اتنی گہرائی میں جاکر نہیں سوچ پاتیں اور ان کا ڈراما پکڑا جاتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اب ان سے یہ بیانیہ نہیں چل رہا تو بلوچ طلبہ کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں’۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘وہ اپنی کرپشن بچانے کے لیے خود کو معصوم ثابت کرنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ سے مدد لے رہی ہیں جس کا ہدف پاک فوج کو نشانہ بنانا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کا ایک اور ایجنڈا نواز شریف کو انقلابی ثابت کرنا ہے، انقلابی ملک سے بھاگتے نہیں، آئیں اپنی سزا کاٹیں اور آئین و قانون پر عمل در آمد کریں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘گوجرانوالہ کے جلسے کے بعد شہلا رضا نے کہا کہ ہم نے کراچی میں کوئی فالتو تقریر نہیں کرائی، یہ انقلابی ہیں یا فالتو پہلے اس کا فیصلہ کرلیں’۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے نواز شریف کو ملک واپس لانے کے اعلان کو دوہراتے ہوئے کہا کہ ‘اگر یہ خود واپس نہیں آئے تو عمران خان ان کو واپس لے کر آئیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انہیں کرپشن کرنے کی پوری خود مختاری چاہیے، جب تک عمران خان کو اللہ نے زندگی دی ہے چیلنج کرتے ہیں کہ آپ کو نہ حکومت میں آنے دیں گے اور نہ کرپشن کرنے دیں گے’۔

جیو نیوز کے صحافی علی عمران کی گمشدگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ حکومت علی عمران کے خاندان سے رابطہ کرکے ان کی مدد کرے’۔

ان کا کہان تھا کہ ‘شبلی فراز اور وزارت داخلہ کے درمیان اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے اور ہم اس طرح کے کسی بھی اقدام کی مذمت کرتے ہیں’۔