پاکستان پولیو سے پاک ہونے والا اگلا ملک بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2020

ای میل

انسداد پولیو مہم کی جاری مہمات کے دوسرے حصے کا آغاز 26 اکتوبر کو کیا جائے گا—فائل فوٹو: ڈبلیو ایچ او پاکستان ٹوئٹر
انسداد پولیو مہم کی جاری مہمات کے دوسرے حصے کا آغاز 26 اکتوبر کو کیا جائے گا—فائل فوٹو: ڈبلیو ایچ او پاکستان ٹوئٹر

اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان میں موجود نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے کہا ہے کہ 30 سال کی مسلسل کوششوں کے بعد رواں برس اگست کے مہینے میں افریقی خطے کے وائلڈ پولیو سے پاک ہونے کی تصدیق کی گئی جبکہ پاکستان دنیا کا اگلا پولیو سے پاک ملک بن سکتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا کا پولیو سے بچاؤ کے عالمی دن پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت پاکستان، پولیو ورکرز، خیال رکھنے والوں اور سول سوسائٹی سمیت عطیات دہندگان کی جانب سے ملک میں جاری پولیو کے خلاف جنگ میں کیے جانے والے تعاون کو سراہا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 4 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

ڈبلیو ایچ او کے نمائندے نے کہا کہ انسداد پولیو پروگرام اور شراکت داروں نے تصدیق کی ہے کہ وہ متحرک رہیں گے اور تمام قوم پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس قومی مقصد میں ان کے پیچھے کھڑے ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیو ویکسین سے متعلق غلط تصورات اور کووڈ 19 کے لاک ڈاؤن جیسے چیلنجز کی وجہ سے پولیو کے خلاف جاری کوششیں متاثر ہوئیں ہیں، پولیو پروگرامز نے اپنے شراکت داروں کے ہمراہ دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے تاکہ پاکستان حال ہی میں افریقی ممالک کی طرح پولیو سے پاک ہوسکے‘۔

انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہم میں حکومت کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے عالمی تنظیموں ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے بھی مدد کی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے جبکہ ان کوششوں کی کامیابی میں سب سے اہم کردار 2 لاکھ 60 ہزار فرنٹ لائن ورکرز کی محنت کا ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں پولیو وائرس کا کیس سامنے آگیا

ڈاکٹرپالیتھا ماہی پالا کا کہنا تھا کہ وہ ان کوشوں میں ہمارے اصل ہیرو ہیں جو ہمیشہ مدد کرتے ہیں اور انہوں نے لاکھوں بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاکر ہمیں فخر کے قابل بنایا ہے۔

برادریوں اور والدین کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں انسداد پولیو مہم بحفاظت شروع ہو تو یہ اشد ضروری ہے کہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اور بلوچستان میں پولیو کے 9 کیسز رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری برادری، خیال رکھنے والوں اور والدین کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو پولیو کی بیماری سے بچانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔

خیال رہے کہ انسداد پولیو کی جاری مہمات کے سلسلے میں اگلی ذیلی قومی انسداد پولیو مہم 26 اکتوبر سے شروع ہوگی، جس میں 5 سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا پاکستان میں پولیو مہم کے خلاف مزاحمت کو بڑھا سکتا ہے، رپورٹ

مہم کے تحت پنجاب اور بلوچستان کے 33، 33، سندھ کے 41 ، گلگت بلتستان کے 8 اضلاع جبکہ آزاد کشمیر کے 10 اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے ایک ضلع میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

اس حوالے سے تمام حفاظتی ٹیکوں کے مراکز نے بھی اپنی سرگرمیوں آغاز کردیا ہے جبکہ مجوزہ شیڈول کے مطابق قابل علاج بیماریوں کے خلاف ویکسینیشن کروانے پر والدین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔


یہ خبر 25 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔