’گستاخانہ خاکوں' کا معاملہ: مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

عرب ممالک میں فرانس کی میک اپ اور فوڈ مصنوعات کو ہٹایا جانے لگا—فوٹو: رائٹرز
عرب ممالک میں فرانس کی میک اپ اور فوڈ مصنوعات کو ہٹایا جانے لگا—فوٹو: رائٹرز

یورپی ملک فرانس کی حکومت نے عرب ممالک سے اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کی اپیل کردی۔

کویت سمیت متعدد عرب ممالک کی کاروباری تنظیموں نے چند دن قبل ہی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور یورپی ملک کی ہر طرح کی مصنوعات کو دکانوں سے ہٹایا جا رہا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانس کے ایک استاد کی جانب سے کچھ دن قبل کلاس کے دوران بچوں کو ’گستاخانہ خاکے‘ دکھانے کی خبر سامنے آنے کے بعد عرب ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

فرانسیسی مصنوعات کے خلاف سب سے پہلے کویت کی 70 سے زائد کاروباری تنظیموں کے اتحاد نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کویت بھر سے فرانسیسی مصنوعات کو اسٹورز سے ہٹایا جا رہا تھا۔

مذکورہ بائیکاٹ اس وقت شروع کیا گیا جب فرانسسی صدر ایمانوئیل میکرون نے 23 اکتوبر کو متنازع بیان دیا اور کہا تھا کہ فرانس ’گستاخانہ خاکوں‘ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

فرانسیسی صدر نے یہ بیان اس وقت دیا تھا جب فرانس میں 17 اکتوبر کو ایک حملے میں اس استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا، جس نے اسکول میں بچوں کو ’گستاخانہ خاکے‘ دکھائے تھے۔

فرانسیسی صدر نے مذکورہ شخص کی آخری رسومات میں شرکت کرکے اسے فرانس کا ہیرو بھی قرار دیا تھا، جس پر پوری دنیا میں فرانسیسی صدر کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔

فرانسیسی صدر کے متنازع بیان پر حکومت پاکستان اور حکومت ترکی نے سخت رد عمل دیا تھا اور ایمانوئیل میکرون کو ’دماغی معائنہ‘ کرانے کے مشورے دیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اردوان کی دوبارہ میکرون کو ’دماغی معائنے‘ کی تجویز

فرانس میں ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اسکولی بچوں کے سامنے نمائش، نمائش کرنے والے استاد کے قتل اور پھر فرانسیسی صدر کی جانب سے اسے ہیرو قرار دیے جانے کے بعد پوری مسلم دنیا میں فرانس کے خلاف مظاہرے اور بائیکاٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

اسی سلسلے کے تحت کویت کی 70 سے زائد کاروباری تنظیموں کے اتحاد نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرکے یورپی ملک کی مصنوعات کو ہٹانا شروع کردیا تھا۔

علاوہ ازیں سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، مصر اور دیگر مسلم ممالک میں بھی فرانس کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنے اور عوام نے فرانسیسی صدر پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا۔

عرب ممالک میں اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ شروع ہونے کے چند دن بعد ہی فرانسیسی حکومت کے ہوش ٹھکانے آگئے اور اس نے مشرق وسطی کے ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کردی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے بعد فرانسیسی وزارت خارجہ نے عرب ممالک کو بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فرانس کے خلاف ’گستاخانہ خاکوں‘ کی تشہیر اور اشاعت کے الزامات کے تحت کیے جانے والا بائیکاٹ اور مظاہرے من گھڑت ہیں۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے مشرق وسطیٰ ممالک سے بائیکاٹ اور احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا، وزیراعظم

جہاں ایک طرف فرانسیسی حکومت نے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، وہیں دنیا بھر کے مسلم ممالک سمیت دیگر مسلم آبادی والے ممالک کے عوام کی جانب سے فرانسس کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم میں تیزی دیکھی گئی۔

دنیا بھر میں چلنے والی فرانس مخالف سوشل میڈیا مہم میں فرانسیسی صدر اور حکومت سے ’گستاخانہ خاکوں‘ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

’گستاخانہ خاکوں‘ کا پس منظر

سب سے پہلے فرانسیسی ہفت روزہ میگزین چارلی ایبڈو نے 2006 میں ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کی تھی، جس پر دنیا بھر میں مظاہرے کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود 2011 میں مذکورہ میگزین نے پھر ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کی۔

اسی میگزین نے دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کے باوجود وقتا بوقتا ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت جاری رکھی، جس پر 7 جنوری 2015 کو اس کے دفتر پر دو بھائیوں نے مسلح حملہ کیا تھا جس میں جریدے کا ایڈیٹر، 5 کارٹونسٹ سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مذکورہ واقعے کے بعد میگزین نے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کا سلسلہ روک دیا تھا، تاہم گزشتہ سال ایک بار پھر مذکورہ میگزین میں ’توہین آمیز خاکوں‘ کی اشاعت ہونے لگی تھی، جس پر دنیا بھر کے اسلامی ممالک کی حکومتوں نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

رواں ماہ 17 اکتوبر کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک اسکول ٹیچر کا سر قلم کردیا گیا تھا، جس نے اپنے اسکول میں چارلی ایبڈو میں شائع کیے گئے ’گستاخانہ خاکوں‘ کو کلاس میں دکھایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی فرانسیسی جریدے کے 'گستاخانہ خاکے' دوبارہ شائع کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت

مذکورہ استاد نے آزادی اظہار رائے کی کلاس کے دوران پرانے ’گستاخانہ خاکوں‘ کو دکھایا تھا۔

استاد کے قتل کے بعد دنیا بھر میں ایک بار پھر فرانسس کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے اور استاد کی آخری رسومات کے دوران 23 اکتوبر کو فرانسیسی صدر نے اسے ہیرو قرار دیا، جس پر حکومت پاکستان اور ترکی سمیت کئی ممالک کی حکومتوں نے برہمی اور غصے کا اظہار کیا۔

استاد کے سر قلم کیے جانے اور فرانسیسی صدر کے متنازع بیان کے بعد ہی عرب ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سمیت فرانسیسی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔