گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پاکستان کا احتجاج، فرانسیسی سفیر دفترخارجہ طلب

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان جاری کیا—فائل فوٹو: اے پی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان جاری کیا—فائل فوٹو: اے پی

پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرلیا۔

ڈان نیوز ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کیا گیا، جہاں مذکورہ معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو اسپیشل سیکریٹری یورپ نے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی سفیر سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ فرانسیسی صدر کے بیان پر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا۔

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مذکورہ معاملے پر پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے تاکہ ان کو احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ اسلام کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور گستاخانہ خاکوں کا نوٹس لے اور مؤثر کارروائی کرے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام مخالف بیانیے اور گستاخانہ خاکوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے، آج جو نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں اس کے نتائج شدید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے غیرذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہولوکاسٹ کی طرح اسلام مخالف مواد پر بھی پابندی لگائی جائے، عمران خان کا زکر برگ کو خط

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے، آج نفرت کے جو بیج بوئے جارہے ہیں ان کے نتائج شدید ہوں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے تاکہ ان کو احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔

اپنے بیان میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں ایک جامع قرارداد پیش کی جائے گی، جس میں 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کی تجویز دی جائے گی۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ٹرینڈ ہے جس کی نشاندہی پہلے کرچکے ہیں، کچھ عرصے قبل چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکوں کا پروگرام منعقد کرنے کی کوشش کی جس پر پاکستان نے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس کی وزیراعظم عمران خان نے نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ اس پر قابو نہیں پایا تو معاملات بگڑیں گے، ساتھ ہی انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیا تھا کہ جب ہولوکاسٹ کی صورتحال سامنے آئی تو مہذب معاشروں نے اس پر ردعمل دیا اور اس پر قدغن لگائی۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا فرانسیسی صدر کو 'دماغی معائنہ' کرانے کی تجویز

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں وزیراعظم نے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو خط لکھا ہے کہ جب ہولوکاسٹ پر پابندی لگ سکتی ہے تو اسلام مخالف مواد پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔

دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ اس پر ایک اجتماعی فیصلہ ہونا چاہیے اور دنیا کے مہذب ممالک کو اس سے آگاہ کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کر کے اسلام اور ہمارے نبی ﷺ کو ہدف بنا کر مسلمانوں، بشمول اپنے شہریوں کو جان بوجھ کر مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ 'کسی رہنما کی خوبی یہ ہوتی ہے وہ انسانوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد کرے جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے کیا'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ وہ وقت ہے کہ جب ایمانیئول میکرون دوریاں بڑھانے اور ایک خاص گروہ کو دیوار سے لگانے (جس سے بنیادپرستی کو سازگار ماحول میسر آتا ہے) کے بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھتے اور شدت پسندوں کو گنجائش دینے سے انکار کرتے'۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ 'بدقسمتی سے فرانسیسی صدر نے تشدد پر آمادہ دہشت گردوں، چاہے وہ مسلمان، سفید نسل پرست یا نازی نظریات کے حامل ہوں، کے بجائے اسلام پر حملہ آور ہوتے ہوئے اسلاموفوبیا کی حوصلہ افزائی کا راستہ چنا'۔

معاملے کا پس منظر

خیال رہے کہ فرانسیسی ہفت روزہ میگزین چارلی ہیبڈو نے 2006 میں ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کی تھی، جس پر دنیا بھر میں مظاہرے کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود 2011 میں مذکورہ میگزین نے پھر ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کی۔

اسی میگزین نے دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کے باوجود وقتا فوقتاً ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت جاری رکھی، جس پر 7 جنوری 2015 کو اس کے دفتر پر دو بھائیوں نے مسلح حملہ کیا تھا جس میں جریدے کا ایڈیٹر، 5 کارٹونسٹ سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مذکورہ واقعے کے بعد میگزین نے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کا سلسلہ روک دیا تھا، تاہم گزشتہ سال ایک بار پھر مذکورہ میگزین میں ’توہین آمیز خاکوں‘ کی اشاعت ہونے لگی تھی، جس پر دنیا بھر میں اسلامی ممالک کی حکومتوں نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔

چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔

بعد ازاں چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کردیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کردیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو 'ہیرو' اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو 'مجسم' بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

مزید پڑھیں: ’گستاخانہ خاکوں' کا معاملہ: عرب سمیت دیگر مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ

پیرس میں مذکورہ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی تھی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

استاد کے سر قلم کیے جانے اور فرانسیسی صدر کے متنازع بیان کے بعد ہی عرب ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سمیت فرانسیسی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

یہی نہیں بلکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو 2 مرتبہ ’دماغی معائنہ‘ کرانے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد فرانس نے ترکی سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس کے سیکیولر "بنیاد پرست اسلام" کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔

ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے 'بنیاد پرست اسلام' کے خلاف 'دفاع' کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔