فرانسیسی حکومت کو توہین آمیز خاکوں کی سرپرستی بند کرنی چاہیے، علامہ طاہر اشرفی

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو:ڈان نیوز
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف او آئی سی سے بھر پور آواز اٹھانے اور اقوام متحدہ کی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کردیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، فرانسیسی حکومت کو توہین آمیز خاکوں کی سرپرستی بند کرنی چاہیے اور مستقل بنیادوں پر گستاخی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پاکستان کا احتجاج، فرانسیسی سفیر دفترخارجہ طلب

انہوں نے کہا کہ اس وقت جو مؤقف حکومتِ پاکستان نے اپنایا ہے، اسے عالم اسلام اور عرب ممالک میں سراہا جا رہا ہے، اس کی تائید کی جا رہی ہے۔

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں قانون سازی ہو، اسلامی تعاون تنظیم میں مؤثر انداز میں اس پر آواز بلند ہو اور اس کے لیے ہمارے وزیر خارجہ، وزیر اعظم پاکستان اور میں، وزیراعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے مسلم اور غیرمسلم ممالک کی قیادتوں سے ملاقات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جو تنظیمیں بین المذاہب ہم آہنگی پر کام کر رہی ہیں ان کے ساتھ بھی بات کریں اور اقوام متحدہ سے ایک ایسا قانون منظور ہو جس میں آسمانی مذاہب، تمام آسمانی کتب، تمام مقدس شخصیات کی توہین کو جرم قرار دیا جائے تاکہ یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر ختم ہو۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ہمیں کوئی عزیز نہیں ہے، آج فرانسیسی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا اور پاکستان نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، ہم دنیائے اسلام اور عالمی دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اجتماعی طور پر جو اقدامات اٹھائے جائیں گے وہ سب کو نظر آ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ہولوکاسٹ کی طرح اسلام مخالف مواد پر بھی پابندی لگائی جائے، عمران خان کا زکر برگ کو خط

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے بہتر گزشتہ دنوں میں کسی اور ملک نے کردار ادا نہیں کیا تو یہ گمان نہ کریں کہ کسی کو رسول اللہ ﷺ کی ناموس کے سامنے کوئی چیز عزیز ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جب تک قانون سازی نہیں ہوتی، اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، یہ اجتماعی طور پر پوری امت کا مسئلہ ہے۔

گزشتہ روز علامہ اویس نورانی کی جانب سے کی گئی گفتگو کے حوالے سے سوال کے جواب میں پاکستان علما کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنی افواج، صوبوں، عوام، استحکام، دفاع کی چوکیدار ہے، کوئی بلوچستان کو ہم سے جدا نہیں کر سکتا ہے اور اب قوم کو دیکھنا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم پورے ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کونسل بنانے جا رہے ہیں جو مرکز سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک ہوں گی اور یہ روا داری، امن اور محبت کا پیغام پاکستان سے پوری دنیا میں پھیلے گا۔

اس موقع پر پریس کانفرنس میں مسیحی برادری کے نمائندے نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے اور اس کے لیے وزیر اعظم کے دفتر سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری ہمیشہ اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتی ہے اور آج تک ہمارے لوگوں نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے ہمیں شرمندگی ہو۔

مزید پڑھیں: مغربی ممالک میں ہر دو سال بعد پیغمبر اسلام کی گستاخی کی جاتی ہے، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے کی مذمت کے لیے اپنے تعلقات کو استعمال کریں گے، ہم اپنے مسلمان دوستوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر فورم پر اس کی مذمت کریں گے۔