گندم کی کم سے کم امدادی قیمت 1600 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2020

ای میل

ای سی سی اجلاس میں روس سے 3 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم کی رواں سال کی تمام درآمدات کی اعلی ترین قیمت پر درآمد کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔ - فائل فوٹو:رائٹرز
ای سی سی اجلاس میں روس سے 3 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم کی رواں سال کی تمام درآمدات کی اعلی ترین قیمت پر درآمد کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔ - فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو تین سال کے عرصے میں کم ٹیرف پر مشتمل 400 ارب روپے کے توانائی سے متعلق پیکیج کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منظور نہیں کیا جبکہ گندم کی آنے والی فصل کے لیے 40 کلوگرام کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کو منظور کرلیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس معمول کے شیڈول کے بجائے پیر کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا تاکہ گندم کے ایم ایس پی اور توانائی کے معاون پیکیج کی منظوری اور عمل درآمد کا حوالے سے معاملہ فوری طور پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اٹھایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: ای سی سی کا گندم کی امدادی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کرنے سے گریز

اس اجلاس میں روس سے 3 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم کی درآمد کو رواں سال کی تمام درآمدات کی اعلی ترین قیمت پر درآمد کرنے کی بھی اجازت دی گئی، دو فرٹیلائزر پلانٹز کے لیے رعایتی گیس کے نرخوں کی منظوری دی گئی اور پورے سال کے لیے مختص بجلی سیکٹر کی سبسڈی کے نصف حصے کو فوری طور پر تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 'اجلاس میں زیروریٹڈ برآمدی صارفین کے علاوہ تمام صنعتی صارفین کو 12.96 روپے فی کلوواٹ کے انکریمنٹل شرح سے اضافی بجلی فراہم کرنے کی اجازت دی گئی'۔

تاہم، کابینہ کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے اور اسے شاید آئی ایم ایف کے ساتھ جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہوگی اور اس کے بعد اسے متعارف کرائے جانے سے قبل اس کی منظوری دی جائے گی۔

اس بات کی تصدیق اجلاس میں شریک کم از کم دو مزید شرکا نے بھی کی۔

اس سے متعلق معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ پاور ڈویژن نے ای سی سی کو دو آپشنز تجویز کیے تھے جن میں بی - ون سے بی - فور کیٹیگری میں ہر قسم کی صنعتی کھپت کے لیے 12.96 روپے فی یونٹ ریٹ شامل ہے جس میں زیادہ تر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ سبسڈی غیر جانبدار آپشن ہے کیونکہ یہ بجلی کی پیداوار کی معمولی لاگت ہے۔

دوسرا آپشن یہ تھا کہ 8 روپے فی یونٹ سبسڈی والے ریٹ مہیا کریں جو 5 روپے فی یونٹ سبسڈی پر مشتمل ہے تاکہ ایس ایم ایز کو زیادہ سے زیادہ کھپت کی جانب حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ بہتر صنعتی پیداوار ہو۔

ایس ایم ای سیکٹر کے لیے 20 ارب روپے سالانہ سبسڈی دینے کا تخمینہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا گندم کی درآمد میں تاخیر پر اظہار برہمی

بی - ون سے بی - فور کے درمیان آنے والے ان چاروں کیٹیگریز کے لیے موجودہ عام ریٹ 17.35 روپے اور 20.40 روپے فی یونٹ ہے۔

واضح رہے کہ بجلی کے شعبے کے لیے سبسڈی لگ بھگ 140 ارب روپے مقرر کی گئی تھی اور آئی ایم ایف پروگرام کی حدود کو دیکھتے ہوئے اسے بڑھایا نہیں جاسکتا لہذا کورونا وائرس سے متعلق فنڈز کے استعمال کا خیال گزشتہ مالی سال سے آگے بڑھا جس کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے سے مشاورت کی بھی ضرورت تھی۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ای سی سی نے ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر وقار مسعود، حماد اظہر، عمر ایوب خان، ندیم بابر اور تابش غوری پر مشتمل کمیٹی قائم کی جو کے الیکٹرک کو اس پیکیج میں شامل کرانے کے لیے تجاویز اور سفارشات مرتب کرے گی۔

کمیٹی اس پیکیج کو ایک یا تین سال تک جاری رکھنے کے لیے تجاویز بھی تیار کرے گی۔

اس کے علاوہ کمیٹی اس پیکیج میں سبسڈی کو شامل کرنے اور اس کے لیے انتظامات لے ضمن میں تجاویز بھی تیار کرے گی۔