فلم پالیسی بن چکی، مارچ تک نافذ کردیں گے، وفاقی وزیر اطلاعات

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

وزیر اعظم نے فلم پالیسی بنانے کی ہدایت کی تھیں—فائل فوٹو: فیس بک
وزیر اعظم نے فلم پالیسی بنانے کی ہدایت کی تھیں—فائل فوٹو: فیس بک

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ حکومت نے فلم پالیسی تیار کرلی تاہم اس پر مزید غور و فکر کیا جا رہا ہے اور کوشش ہے کہ آئندہ سال مارچ تک اسے نافذ کردیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس ستمبر میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو فلم پالیسی تیار کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس ستمبر میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے نئے اقدامات اٹھانے کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ اداروں اور حکام کو جلد پالیسی بنانے کی ہدایات کی تھیں۔

نئی پالیسی کے تحت فلم اور سنیما انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ساتھ ہی معیاری فلمیں بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو آگاہی دی گئی تھی کہ اس وقت ملک میں 70 سنیما اور 150 ملٹی پلیکس اسکرینز ہیں جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ عام آدمی جدید ملٹی پلیکس اسکرینز پر فلمیں دیکھنے کا متحمل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کی منظوری دے دی

ساتھ ہی وزیر اعظم نے قابل استطاعت لاگت کے ساتھ فلم دیکھنے کے لیے ملک بھر میں سنگل اسکرین سنیما قائم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا تھا۔

وزیر اعظم نے ستمبر میں حکام کو نئی پالیسی بنانے کی ہدایات کی تھیں—فائل فوٹو: اے پی پی
وزیر اعظم نے ستمبر میں حکام کو نئی پالیسی بنانے کی ہدایات کی تھیں—فائل فوٹو: اے پی پی

اور اب وزیر اطلاعات نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے بعد فلم پالیسی تیار کی جا چکی ہے، جس پر مزید غور و فکر جاری ہے اور کوشش کرکے اسے مارچ 2021 تک نافذ کردیا جائے گا۔

انڈیپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ چوں کہ پالیسی ہر روز نہیں بنائی جاتی، اس لیے تیار کی گئی پالیسی کو مزید بہتر کرنے کا کام جاری ہے اور کوشش کرکے اسے مارچ تک نافذ کردیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری کو صنعت کا درجہ 28 سال قبل 1992 میں ہی دیا گیا تھا مگر افسوس اس پر عمل نہیں ہوسکا اور فلمی صنعت کو اہمیت نہیں دی گئی۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حالیہ حکومت وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے عین مطابق فلم سازوں اور سینما مالکان کی مالی معاونت سے متعلق بھی اقدامات اٹھائے گی تاہم ہر کام حکومت نہیں کر سکتی، اس ضمن میں انڈسٹری کے لوگوں کو خود بھی آگے آنا پڑے گا۔

ذااتی طور پر فلموں پر پابندی کا حامی نہیں، شبلی فراز—فائل فوٹو: اے پی پی
ذااتی طور پر فلموں پر پابندی کا حامی نہیں، شبلی فراز—فائل فوٹو: اے پی پی

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حکومت فلم اور سینما انڈسٹری کے لوگوں کو ٹیکس سے مکمل استثنیٰ نہیں دے سکتی، البتہ انہیں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا فلم انڈسٹری کی بحالی کا مطالبہ

انہوں نے ایک سوال پر اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ملک میں فلم انڈسٹری کے بگاڑ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں میں الگ الگ سینسر بورڈز قائم کیے گئے، جن سے مسائل پیدا ہوئے تاہم اب انہیں یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر فلموں پر پابندی کے حامی نہیں ہیں تاہم سینسر شپ کے حوالے سے ایک باضابطہ طریقہ موجود ہونا چاہیے، کسی ایک شخص کی ذاتی پسند یا ناپسند پر سینسرشپ کے فیصلہ نہ ہوں۔

انہوں نے فلموں کو تخلیقی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلموں کے ذریعے مقامی ہیروز کو بھی سامنے لایا جانا چاہیے۔

فلم سازوں کی ٹیکس میں رعایت دی جا سکتی ہے، انہیں مکمل چھوٹ نہیں دی جا سکتی، وفاقی وزیر—فائل فوٹو: اے ایف پی
فلم سازوں کی ٹیکس میں رعایت دی جا سکتی ہے، انہیں مکمل چھوٹ نہیں دی جا سکتی، وفاقی وزیر—فائل فوٹو: اے ایف پی