عملے کی سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق بی بی سی کی نئی ہدایات جاری

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2020

ای میل

بی بی سی کو برطانیہ حکمراں جماعت کنزرویٹو کی جانب سے فنڈنگ اور کچھ اراکین کی سیاست پر دباؤ کا سامنا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
بی بی سی کو برطانیہ حکمراں جماعت کنزرویٹو کی جانب سے فنڈنگ اور کچھ اراکین کی سیاست پر دباؤ کا سامنا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

لندن: برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) نے صحافیوں اور دیگر عملے پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے یا باہر تقاریر کرنے کے لیے منافع بخش پیش کش قبول کرکے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے بعد غیر جانبداری سے متعلق نئی ہدایات جاری کردیں۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق بی بی سی نے کہا ہے کہ عملے، کنٹریکٹرز اور فری لانسرز کو ہدایات کی 'سنگین' خلاف ورزی پر برطرفی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

خیال رہے کہ بی بی سی کو برطانیہ حکمراں جماعت کنزرویٹو کی جانب سے فنڈنگ اور کچھ اراکین کی سیاست پر دباؤ کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: بی بی سی اردو کا سیربین کی ریڈیو نشریات بند کرنے کا فیصلہ

بی بی سی کے نئے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی کی جانب سے عملے کو ارسال کی گئی ای میل میں کہا گیا کہ غیر جانبداری ہی وہ بنیاد ہے جس پر ہم پرجوش، زمینی حقائق اور شعور پر مبنی خبریں پہنچاتے ہیں۔

اس حوالے سے ٹم ڈیوی کی نظروں میں آنے والے عملے میں ممکنہ طور پر انگلینڈ کے سابق فٹ بالر اور بی بی سی کے اسپورٹس پریزینٹر گیری لینیکر شامل ہیں جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

گیری لینیکر اور بی بی سی کے عملے کے کچھ افراد نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے فٹ بالر مارکس رشفورڈ کی جانب سے شروع کی گئی ایک مہم کی حمایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بی بی سی ریڈیو سے پہلی مرتبہ اذان نشر

اس مہم میں مارکس رشفورڈ کی جانب سے حکومت کو کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران غریب بچوں کو ٹرم ٹائم کے باہر اسکول کا کھانا مفت فراہم کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ بی بی سی اپنے عملے کی جانب سے ادارے کے باہر سرگرمیوں کی نگرانی میں ناکامی پر بھی اپنا دفاع کررہا ہے۔

گزشتہ برس شمالی امریکا کے ایڈیٹر جان سیپول پر میامی میں تمباکو بنانے والے بین الاقوامی کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کو معاوضے کے عوض تقریر کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


یہ خبر 30 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی