نقیب اللہ قتل کیس: ایک اور گواہ نے راؤ انوار کے خلاف اپنا بیان واپس لے لیا

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2020

ای میل

گواہ نے مزید کہا کہ وہ جے آئی ٹی کے ساتھ مل کر کرائم سین نہیں گئے تھے—فائل فوٹو: بشکریہ فیس بک
گواہ نے مزید کہا کہ وہ جے آئی ٹی کے ساتھ مل کر کرائم سین نہیں گئے تھے—فائل فوٹو: بشکریہ فیس بک

کراچی: استغاثہ کے ایک اور گواہ نے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ اور تین دیگر افراد کے ’جعلی‘ مقابلے میں قتل کے کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے خلاف اپنا بیان واپس لے لیا۔

واضح رہے کہ راؤ انوار اور ان کے ماتحت اہلکاروں کے خلاف نقیب اللہ اور تین دیگر افراد کو 13 جنوری 2018 کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں ’طالبان عسکریت پسند‘ قرار دے کر قتل کردینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’پولیس مقابلے میں نوجوان کا قتل‘، بلاول بھٹو اور وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جعمرات کو معاملہ انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی ) تھری کے جج کے سامنے اس وقت آیا جب سرکاری وکیل نے گواہ پیش کیا۔

گواہ، جو ایک پولیس افسر بھی ہے، نے کہا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم، جو ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی تحقیقات کرتی تھی، وہ 31 مارچ کو ملیر کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن پہنچی تھی جہاں وہ اس وقت ڈیوٹی افسر تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی اراکین نے انہیں بتایا کہ راؤ انور کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے طلب کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ٹیم کے ممبران اور ملزم اپنی کارروائی کے دوران تقریباً دو گھنٹے تھانے میں رہے۔

گواہ نے مزید کہا کہ وہ جے آئی ٹی کے ساتھ مل کر کرائم سین نہیں گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نقیب اللہ قتل کیس: 5 ملزمان کی ضمانت مسترد

تاہم سرکاری وکیل نے دعویٰ کیا کہ گواہ اپنا سابقہ بیان واپس لے رہا ہے جو انہوں نے تفتیشی ٹیم کے سامنے ریکارڈ کروایا تھا۔

گواہ نے بتایا تھا کہ اس نے حلف کے تحت حقیقت بیان کی۔

جج کا اظہار برہمی

دریں اثنا اے ٹی سی کے جج نے کیس کے تفتیشی افسر ایس ایس پی عابد قائم خانی اور دیگر گواہوں کی سماعت میں عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے کیس کے مرکزی فرد کو 11 نومبر کو اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ جولائی میں استغاثہ کے دو اہم گواہوں سب انسپکٹر رانا آصف اور ہیڈ کانسٹیبل شہزادہ جہانگیر بھی اپنے بیانات سے مکر گئے تھے۔

رانا آصف نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے نقیب اللہ کو تین دیگر نوجوانوں کے ساتھ عباس ٹاؤن پولیس چوکی کے انچارج اکبر مالہ اور دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا تھا۔

مزیدپڑھیں: نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان انتقال کرگئے

شاہ لطیف ٹاؤن کے اس وقت کے ایس ایچ او امان اللہ مروت کے قریبی ساتھی جہانگیر نے اقرار کیا تھا کہ امان اللہ مروت، سہراب گوٹھ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او شعیب شیخ عرف شوٹراور دیگر پولیس اہلکاروں نے راؤ انوار کی موجودگی میں نقیب اور دیگر تین کو جعلی مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔

تاہم، ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے گواہوں کو ریکارڈ کرتے ہوئے دونوں گواہوں نے اپنے 161 سی آر پی سی کے بیانات کو مسترد کردیا تھا اور کہا کہ انہوں نے فائرنگ کا تبادلہ یا اغوا کاروں کی گرفتاری نہیں دیکھی۔

سابق ایس ایس پی راؤ انوار، سابق ڈی ایس پی قمر احمد اور پولیس کے تین سابق عہدیداروں محمد یٰسین، سپرد حسین اور خضر حیات ضمانت پر ہیں۔

علاوہ ازیں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، سابق ایس ایچ او شیخ محمد شعیب، گڈا حسین، محسن عباس، صداقت حسین شاہ، رانا شمیم اور ریاض سمیت 7 افراد کو ملزم قرار دیا گیا اور ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے گئے۔

مزیدپڑھیں: نقیب اللہ کا قتل ماورائے عدالت قرار

استغاثہ کے مطابق نقیب اللہ محسود اور تین دیگر اسیر صابر، نذر جان اور اسحاق کے ساتھ ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا تھا اور سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی ٹیم نے اسے طالبان عسکریت پسند قرار دیا تھا۔

تاہم کسی تفتیش میں نقیب اللہ کے کسی دہشت گردانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن نقیب اللہ کے سوشل میڈیا پروفائل سے لگتا ہے کہ وہ ماڈل بننے کے خواہشمند اور ایک لبرل نوجوان تھے۔

سیشن عدالت نے ایک نو عمر عیسائی لڑکی آرزو کو اغوا کرنے کے الزام میں زیر حراست 3 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بعد ضمانت منظور کرلی۔

واضح رہے کہ مذکورہ لڑکی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ لڑکی نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

پولیس نے لڑکی کے شوہر سید علی اظہر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کے دو بھائیوں سید شارق علی اور سید محسن علی کو ان کے دوست دانش کے ہمراہ 13 سالہ آرزو کو 13 اکتوبر کو اغوا میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

کہا جارہا ہے کہ تینوں افراد پولیس اہلکار ہیں۔

حراست میں لیے گئے تینوں ملزمان نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج (جنوبی) فائزہ خلیل کے سامنے بعد از گرفتاری درخواستیں پیش کی گئی جنہیں قبول کرلیا گیا۔