پشاور بم دھماکا: داعش کو مشتبہ ’حملہ آور‘ قرار دے دیا گیا

اپ ڈیٹ 30 اکتوبر 2020

ای میل

پشاور کے جامعہ زیبریہ میں 8 طلبا جاں بحق اور 120 زخمی ہوگئے تھے—فائل/فوٹو: اے ایف پی
پشاور کے جامعہ زیبریہ میں 8 طلبا جاں بحق اور 120 زخمی ہوگئے تھے—فائل/فوٹو: اے ایف پی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مدرسے جامعہ زبیریہ میں بم دھماکے کی ابتدائی تفتیش کی روشنی میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) کو مشتبہ ’حملہ آور‘ قرار دے دیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت جامعہ زبیریہ بم دھماکے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں 8 طلبا جاں بحق اور 120 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ایک سینیئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اجلاس کے شرکا نے بم دھماکے کے بعد خطرات اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دوبارہ سے انضمام پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: مدرسے میں دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 110 زخمی

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ جامعہ زبیریہ کے مہتمم شیخ رحیم الدین حقانی داعش کے مخالف تھے اور ان کے خلاف کئی فتوے بھی جاری کر چکے تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حملے میں بچ جانے والے شیخ رحیم الدین حقانی داعش کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھے اور ماضی میں بھی ان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘یہ چیزیں داعش کو بم دھماکے کا مرکزی ملزم ثابت کر رہی ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ‘ملٹری گریڈ’ یا ٹی این ٹی دھماکے میں خودکار مواد استعمال ہوا اور دھماکا خیز مواد اور ٹائم ڈیوائس دونوں مقامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں اور انہیں بظاہر افغانستان سے اسمگل کیا گیا۔

دوسری جانب سرکاری سطح پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، سیکریٹری داخلہ اکرام اللہ، کمشنر پشاور امجد علی خان اور سینیئر پولیس عہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا کو صوبے کی سیکیورٹی صورت حال اور دہشت گردوں کے حملوں کے انسداد کے لیے سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔

مزید پڑھیں: دشمن نے مذموم مقاصد پروان چڑھانے کیلئے مدرسے کے بچوں کو خون میں نہلایا،آرمی چیف

بیان کے مطابق وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری اور ترجیح ہے اور صوبے میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا اور اس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

محمود خان نے کا کہنا تھا کہ مدرسے میں بم دھماکا صوبے کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش تھی لیکن حکومت ہر قیمت پر امن و امان برقرار رکھے گی۔

انہوں نے پولیس کو سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات اور کسی بھی دہشت گرد واقعے سے بچنے کے لیے انٹیلی جنس نظام کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی۔

اس سے قبل مدرسے کے مہتمم شیخ رحیم الدین حقانی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک لائیو پر بم دھماکے میں داعش کے ملوث ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کسی دہشت گرد تنظیم کا نام واضح طور پر نہیں لیا تھا۔

بظاہر داعش کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ خارجی حملہ نہ تو پہلا ہے اور نہ آخری ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘حملے کے باوجود ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے’۔

دوسری جانب مقامی مدارس میں سیکیورٹی انتظامات کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے تعلیمی بورڈ کے اراکین نے پولیس حکام سے ملاقات کی۔

پولیس نے وفد کو مدارس کی سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔

وفد نے پولیس کو اپنے تعاون اور شہر میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: مدرسہ دھماکے میں ملوث ہونے کا شبہ، 55 افراد گرفتار

یاد رہے کہ 28 اکتوبر کو پشاور میں قائم مدرسہ جامعہ زبیریہ میں بم دھماکے کے نتیجے میں طلبہ سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ 120 زخمی ہوگئے تھے۔

ایس ایس پی آپریشنز منصور امان نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکا تھا جس میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ادھر ایک اور سینئر پولیس عہدیدار نے خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا تھا کہ مدرسے میں دھماکا اس وقت ہوا جب قرآن پاک کی کلاس جاری تھی اور کوئی فرد مدرسے میں بیگ رکھ کر چلا گیا۔