راولپنڈی: ٹی ایل پی کارکنان اور پولیس میں تصادم، صورتحال کشیدہ

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2020

ای میل

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے —فوٹو: اے ایف پی
پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے —فوٹو: اے ایف پی

راولپنڈی میں لیاقت باغ اتوار کو اس وقت میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا جب پولیس اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ڈنڈہ بردار کارکنان کے درمیان دن پھر تصادم جاری رہا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فساد پر قابو پانے کے لیے موجود پولیس نے پتھراؤ کرنے والے ان مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا جو فرانس میں میگزین چارلی ہیپڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانیوئل میکرون کے اسلام اور دہشت گردی سے متعلق بیان کے خلاف ٹی ایل پی سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی کال پر جمع ہوئے تھے۔

ان جھڑپوں کے دوران ایس ایچ او تھانہ وارث خان سمیت درجنوں پولیس اہلکار اور متعدد ٹی ایل پی کے کارکنان زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

لیاقت باغ کے قریبی علاقے کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ شیلنگ نے متصل علاقوں کے رہائشیوں کو بھی متاثر کیا اور بہت سے افراد کو سانس لینے میں پریشانی کی شکایات ہوئیں۔

مزید پڑھیں: ٹی ایل پی کی ریلی روکنے کیلئے اسلام آباد کے داخلی راستے بند

قبل ازیں ہفتے کو پولیس کو یہ اعلانات کرتے دیکھا گیا تھا کہ وہ مری روڈ اور اطراف کی مارکیٹوں کے تاجروں کو اتوار کو اپنے کاروبار بند رکھنے کا کہہ رہے ہیں ساتھ ہی انہیں یہ وارننگ بھی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے ہدایات پر عمل نہیں کیا تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مذکورہ ریلی کو روکنے کے سلسلے میں شہر کے 24 داخلی راستے جس میں سون برج، کچہری چوک، مریر چوک، لیاقت باغ، شمس آباد، رحمٰن آباد، ڈبل روڈ، اڈیالہ روڈ، چھر چوک اور آئی۔ جے پرنسپل روڈ شامل ہیں انہیں شپنگ کنٹینرز کی مدد سے بند کیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی اسلام آباد کے لیے 16 داخلی راستوں کو بھی بند کیا گیا تھا جبکہ پورے راولپنڈی ڈویژن میں ہفتے کی رات سے موبائل فون سروس بھی معطل تھی۔

فیض آباد کے مقام پر اسلام آباد میں داخل ہونے والی ہر گاڑی خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کو پولیس حکام چیک کر رہے تھے اور مسافروں سے سوالات بھی کر رہے تھے۔

ادھر سٹی پولیس افسر محمد احسن یونس خود ٹی ایل پی مظاہرین کے خلاف کارروائی کی نگرانی کرتے رہے جبکہ اس سے پہلے ہی جمعہ اور ہفتے کو 170 سے زائد جبکہ اتوار کو 130 کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔

مظاہرین جن کی سرکاری تعداد تقریباً 3 ہزار بتائی گئی تھی وہ اتوار کو فیض آباد انٹرچینج کے مقام پر پہنچنے میں کامیاب رہے تھے اور وہاں انہوں نے دھرنا دے دیا تھا جبکہ مری روڈ اور فیض آباد پر اسٹریٹ لائٹس بھی بند کردی گئی تھیں۔

مذکورہ ریلی کے پیش نظر اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری پولیس نے غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات کیے تھے تاکہ مظاہرین کو علاقے میں داخل ہونے سے روکا جائے۔

اس سلسلے میں 3100 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جس میں 575 رینجرز اور 250 فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار بھی شامل تھے، پولیس کی جانب سے اہم حکومتی املاک اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 14 پریزن وینز (جیل گاڑی)، 5 واٹر کیننز اور 6 آرمڈ پرسنل کیریئرز بھی تعینات کیے گئے تھے۔

علاوہ ازیں مظاہرین سے ٹی ایل پی سربراہ کے بیٹے سعد رضوی اور دیگر علما نے خطاب میں کہا کہ وہ گرفتاریوں اور شیلنگ سے رکیں گے نہیں اور منصوبے کے مطابق ریلی جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کا گستاخانہ خاکوں کے خلاف اسلام آباد کی طرف مارچ

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فرانسیسی سفر کو فوری طور پر ملک بدر کیا جائے اور مذکورہ ملک کے ساتھ تمام سفارتی، تجارتی اور اقتصادی تعلقات ختم کیے جائیں۔

ریلی کے دوران کئی مظاہرین میٹرو بس ٹریک پر چڑھنے میں کامیاب رہے اور وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنا شروع ہوگئے، اسی کے ساتھ ساتھ ان کا پولیس سے تصادم بھی ہوا اور میٹرو بس اسٹیشنز کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

ادھر کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود کو جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق کمیٹی چوک اور وارث خان میٹرو بس اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے گئے جبکہ سکتھ روڈ اسٹیشن کے گلاس پینز اور فیض آباد پر ایلی ویٹر کو نقصان پہنچایا گیا۔

مزید برآں اس مظاہرے کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی کارکنان نے انہیں ہراساں کیا اور ان کے موبائل فون چھین لیے۔