شوگر ملرز نے گنے کی قلت پر ملوں کی بندش سے خبردار کردیا

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2020

ای میل

ملک میں چینی کی صنعت کو پہلے ہی انکوائری کا سامنا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ملک میں چینی کی صنعت کو پہلے ہی انکوائری کا سامنا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے وزارت صنعت کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ ملک کی شوگرز ملز بندش کا سامنا کرسکتی ہیں کیونکہ انہیں خام مال کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کو ’گنے کی عدم دستیابی کا مقصد کسانوں کی جانب سے قیمتوں کو بڑھانے کا مطالبہ‘ کے عنوان سے لکھے گئے خط میں ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کسانوں کی جانب سے گنے کی فراہمی کو روک کر سازباز کی کوشش کی جارہی ہے۔

پی ایس پی اے کی جانب سے خط کی نقل وزیر برائے قومی تحفظ خوراک سید فخر امام کو بھی ارسال کی گئی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے حکومت کو شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام شوگر ملز نے اپنی متعلقہ صوبائی حکومتوں کی ہدایات کے مطابق 2021-2020 کے لیے گنے کے کرشنگ سیزن کا آغاز کیا۔

تاہم ملوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ملک کے مختلف حصوں میں کاشتکارون کی جانب سے گنے کی کٹائی شروع نہیں کی گئی۔

ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ’کسانوں کی جانب سے صوبائی حکومتوں کی جانب سے مقرر کردہ 200 روپے فی 40 کلو کی قیمت کے مقابلے میں گنے کی زیادہ قیمت کا مطالبہ کیا جارہا‘۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’گنے کی موجودہ فراہمی کی وجہ سے یہ خطرہ ہے کہ گنے کی قلت کا سامنا کرنے والی شوگر ملز ایک ہفتے میں اپنے یونٹس بند کرنے پر مجبور ہوں گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: اٹارنی جنرل کی ملز مالکان کیخلاف منصفانہ، غیر جانبدار کارروائی کی یقین دہانی

ایسوسی ایشن کی جانب سے وزرات صنعت حماد اظہر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مداخلت کریں اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے اس معاملے کو حل کریں تاکہ مقررہ قیمتوں پر گنے کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر چینی کی فراہمی ہو۔

پی ایس ایم اے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ گنے کی زیادہ قیمت باالآخر ملک میں چینی کی پیداواری قیمت میں اضافے کا سبب بنے گی لیکن قیمتوں میں اضافے کے لیے شوگر ملوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ پی ایس ایم اے اور چینی کی صنعت کی جانب سے مبینہ کارٹیلائیزیشن اور قیمتوں میں ہیراپھیری کی وجہ سے اس وقت چینی کی صنعت کو مسابقتی کمیشن پاکستان کی جانب سے انکوائری کا سامنا ہے۔


یہ خبر 21 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔