تھر میں پراسرار بیماریوں سے مویشیوں کی ہلاکت

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2020

ای میل

محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نوٹس لینے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجنے پر فکر مند نظر نہیں آرہے، مقامی افراد - فائل فوٹو:ڈان
محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نوٹس لینے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجنے پر فکر مند نظر نہیں آرہے، مقامی افراد - فائل فوٹو:ڈان

تھرپارکر ضلع کے مختلف علاقوں میں مویشیوں میں پھیلی پراسرار بیماریوں سے متعدد گائے، اونٹ، بھیڑ اور بکریاں ہلاک ہوگئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مقامی دیہاتیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بیماریاں گزشتہ کئی ہفتوں سے ان کے جانوروں، جو مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کا خاتمہ کررہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نوٹس لینے اور بیماری کی تشخیص، بیمار جانوروں کی جانچ اور ویکسین لگانے کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجنے پر فکر مند نظر نہیں آرہے۔

مزید پڑھیں: 6 ہزار مویشی منتقل کرنے والا بحری جہاز ڈوب گیا، عملے کے 43 افراد لاپتا

ان کا کہنا تھا کہ جانور تھر کے تمام حصوں میں اب تک تشخیص نہ کیے گئے اننفیکشنز کے علامات ظاہر ہونے کے بعد 'سینکڑوں' کی تعداد میں مر رہے ہیں جبکہ ان رواں سال مون سون بارشوں کے بعد ان کے علاقوں میں جانوروں کے لیے کافی چارہ دستیاب ہے۔

انہوں نے حکومت سندھ کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ لائیواسٹاک کے مقامی عہدیداروں کو ہدایت دیں کہ وہ جانوروں کے ڈاکٹروں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیجیں اور جانوروں کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کروائیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے پاس 2 لاکھ روپے کے مویشی لیکن کوئی گاڑی نہیں

محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈپٹی ڈائریکٹر گوردھن داس نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیمیں پہلے ہی بیمار جانوروں کے علاج اور ضلع بھر میں بقیہ صحتمند مویشیوں کو قطرے پلانے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے متاثرہ دیہاتیوں کو یقین دلایا کہ وہ اعلی حکام سے مزید دواؤں کا مطالبہ کریں تاکہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں تمام بیمار جانوروں کو مختلف قسم کے انفیکشن سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاسکیں۔