اسرائیلی وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ، ولی عہد سے ملاقات کا انکشاف

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق بینجمن نیتن یاہو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ہمراہ اتوار کے روز سعودی شہر نیوم کے لیے روانہ ہوئے - فائل فوٹو:رائٹرز
رپورٹ کے مطابق بینجمن نیتن یاہو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ہمراہ اتوار کے روز سعودی شہر نیوم کے لیے روانہ ہوئے - فائل فوٹو:رائٹرز

اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق یہ سینئر اسرائیلی اور سعودی عہدیداروں کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی۔

عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن کے ہمراہ اتوار کے روز سعودی شہر نیوم کے لیے روانہ ہوئے جہاں انہوں نے محمد بن سلمان سے ملاقات کی جہاں ولی عہد امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے لیے وہاں موجود تھے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے پاکستان کو امریکا کے شدید دباؤ کا سامنا ہے، وزیراعظم

ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 ڈاٹ کام کے ڈیٹا کے مطابق تل ابیب کے قریب بین گوریئن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ سے گلف اسٹریم IV نجی جیٹ طیارے نے 5 بجکر 40 منٹ جی ایم ٹی پرواز بھری۔

ڈیٹا کے مطابق یہ پرواز جزیرہ نما سینا کے مشرقی کنارے سے ہوتے ہوئے جنوب کی طرف نیوم میں 6 بجکر 30 منٹ پر اتری، طیارے نے 9 بجکر 50 منٹ پر نیوم سے واپس اڑان بھری اور اسی راستے کو اپناتے ہوئے تل ابیب پہنچی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس بارے میں رائے طلب کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

مائیک پومپیو نے مشرق وسطیٰ کے سفر کے دوران ایک امریکی پریس کے وفد کے ساتھ سفر کیا تاہم جب وہ ولی عہد سے ملاقات کے لیے گئے تو وفد کو نیوم ایئر پورٹ پر ہی چھوڑ دیا تھا۔

جہاں بحرین، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدے کیے ہیں وہیں سعودی عرب نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل سے تعلقات، بحرین کے بعد کون؟ نشانہ ایران یا کوئی اور؟

سعودی فرمانروا شاہ سلمان طویل عرصے سے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے حصول کی کوششوں میں ان کی حمایت کرتے آئے ہیں تاہم تجزیہ کاروں اور اندرونی ذرائع کا ماننا ہے کہ ان کا 35 سالہ بیٹا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ممکنہ طور پر امن عمل میں کسی بڑی پیشرفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کے بارے میں زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔

ریاست نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی تھی۔

بحرین کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے کم از کم سعودی عرب کے بھی نظریے کا معلوم ہوتا کیونکہ جزیرے نما ریاست بحرین، ریاض پر انحصار کرتی ہے۔

خیال رہے کہ اگست و ستمبر میں بحرین اور متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے جانے کے بعد امریکا نے مسلم دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے۔

اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے کہا تھا کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا۔

علاوہ ازیں اکتوبر میں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کو ترغیب دی تھی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے جس سے دیگر خلیجی ممالک کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے بعد پومپیو نے کہا تھا کہ ہمارا مشترکہ مقصد خطے میں امن و سلامتی ہے۔