سائنسدان بڑھتی عمر کے اثرات 'ریورس' کرنے میں کامیاب

23 نومبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

بیشتر افراد بڑھاپے کے ساتھ آنے والی جسمانی کمزوریوں اور بیماریوں سے بچنے کی خواہش رکھتے ہیں اور لگتا ہے کہ بہت جلد ایسا ممکن ہوسکے گا۔

سائنسدانوں نے سدابہار جوانی کے حصول میں نمایاں پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔

طبی جریدے جرنل ایجنگ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ انسانوں میں ایک طریقہ کار ہائبر بیرک آکسیجن ٹریٹمنٹ (ایچ بی او ٹی) کے ذریعے خلیاتی عمر بڑھنے کے عمل کو روکنے اور ریورس میں کامیاب رہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر ہمارے جسم کے اندر عمر بڑھنے کے ساتھ تنزلی آتی ہے جس کی وجہ ڈی این اے کے سیکونسز ہوتے ہیں جن کو ٹیلو میئرز کہا جاتا ہے۔

ٹیلومیئرز انسانی کروموسوم کے پروٹین کیپ ہوتے ہیں جن کی لمبائی عمر بڑھنے کے ساتھ گھٹنے لگتی ہے۔

مگر ہر بار کسی خلیے کے تقسیم ہونے پر اس کی لمبائی میں معمولی کمی آتی ہے اور بتدریج یہ اتنی گھٹ جاتی ہے کہ اس کے افعال تھم جاتے ہیں اور کروموسوم غیرمستحکم ہوجاتے ہیں۔

درمیانی عمر کے بعد خلیات تقسیم ہونے اور اپنی نقول بنانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور آہستہ آہستہ مرنے لگتے ہیں۔

ٹیلومیئرز کی لمبائی میں کمی اور خلیات کے بتدریج مرنے کا عمل جسمانی بڑھاپے کا مرکز بنتا ہوں اور اس تحقیق میں اسی عمل کو ریورس کرنے کا ہدف بنایا گیا۔

ایچ بی او ٹی میں آکسیجن کو شدید دباؤ کے ذریعے جسم کا حصہ بنایا جاتا ہے تاکہ خو میں آکسیجن کی مقدار بڑھ سکے۔

اس تیکنیک کو مخصوص اکسیڈنٹ جینز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور تکسیدی تناؤ سے ہونے والے نقصان میں بھی کمی آتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس تیکنیک کو ایسے زخموں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ناسور بن رہے ہوتے ہیں، مگر اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ اس تیکنیک سے ٹیلومیئرز کو کس حد تک تحفظ ملتا ہے اور ان کی لمبائی میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔

اس مقصد کے لیے 64 سال سے زائد عمر کے 35 افراد کو روزانہ 60 ایچ بی او ٹی سینز کا حصہ بنایا گیا۔

علاج کے دوران رضاکاروں کو 90 منٹ تک ایک مخصوص دباؤ کے تحت سوفیصد آکسیجن میں سانس لینے کی سہولت فراہم کی گئی۔

محققین نے ٹرائل کے آغاز پر ان افراد کے خون کے سفید خلیاات کا تجزیہ کیا تھا اور پھر یہ عمل 30 دن اور 60 دن بعد دوبارہ دہرایا گیا جبکہ ٹریٹمنٹ کے اختتام کے 2 ہفتے بعد بھی ایسا کیا گیا۔

نتائج سے عندیہ ملا کہ اس تیکنیک کے نتیجے میں ٹی ہیلپر، ٹی cytotoxic اور بی سیلز میں ٹیلومیئرز کی لمبائی میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

سب سے زیادہ ڈرامائی اضافہ بی سیلز میں دیکھنے میں آیا، جن میں ٹیلومیئرز کی لمبائی میں ٹرائل کے اختتام کے 2 ہفتے بعد اوسطاً 37.63 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

اسی طرح خون کے عمررسیدہ خلیات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ ٹیلومیئرز کی لمبای میں کمی کو بڑھاپے کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے محققین کی جانب سے ٹیلومیئرز کی لمبائی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کیا جارہا ہے، ہمارا طریقہ اس کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور ثابت ہوا کہ خلیات کی بنیادی سطح پر بڑھاپے کے عمل کو ریورس کیا جاسکتا ہے۔

مگر یہ خیال رہے کہ اس سے لوگوں کو بوڑھا ہونے سے روکا نہیں جاسکتا بلکہ مخصوص بیماریوں کی روک تھام اور علاج میں نمایاں پیشرفت کی جاسکتی ہے جو بڑھاپے کے نتیجے میں لاحق ہوتے ہیں۔

اور ہاں مکمل کامیابی پر یہ انسانی عمر میں اضافے میں بھی مددگار تیکنیک ثابت ہوگی۔