’ڈیجیٹل اثاثوں‘ سے متعلق مشاورت کے عمل کا آغاز

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

جدت کی ضرورت کے سبب پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں ایک پالیسی اور انضباطی جواب تیار کرنے کی ضرورت ہے، ایس ای سی پی - فائل فوٹو:رائٹرز
جدت کی ضرورت کے سبب پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں ایک پالیسی اور انضباطی جواب تیار کرنے کی ضرورت ہے، ایس ای سی پی - فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے قیام اور سائبر کرنسی کی حیثیت کی وضاحت سے متعلق قوانین وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں پہلی بریفنگ ایس ای سی پی ہیڈ آفس میں ہوئی۔

اس اجلاس کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر سیکیورٹیز مارکیٹ ڈویژن نازیہ عبید اور ڈائریکٹر انفارمیشن سسٹم اینڈ ٹیکنالوجی عبدالرحیم نے کی۔

مزید پڑھیں: بِٹ کوائن : پاکستانیوں کی کیا رائے ہے؟

ایس ای سی پی نے مشاہدہ کیا کہ جدت کی ضرورت کے سبب پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں ایک پالیسی اور انضباطی جواب تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ملک کے مالیاتی شعبے کو متاثر کیا جاسکتا ہے تاہم چیلنج یہ ہے کہ ڈیجیٹل اثاثے موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کے اندر فِٹ نہیں بیٹھتے ہیں۔

جبکہ بٹ کوائن سمیت سائبر کرنسی کو متعدد ترقی یافتہ معیشتوں میں تسلیم کیا گیا ہے اسٹیٹ بینک کے ساتھ ساتھ ایس ای سی پی نے پہلے ہی پاکستان میں کرپٹو/ورچوئل کرنسی پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

ڈیجیٹل/کرپٹو کرنسیز ایس ای سی پی کے دائرہ کار میں نہیں آتے ہیں لہذا پوزیشن پیپر اس مسئلے سے نہیں نمٹتا تاہم ایس ای سی پی نے ڈیجیٹل ٹوکن/اثاثوں اور یوٹیلیٹی ٹوکن کے اجرا سے متعلق پالیسی اور ضوابط وضع کرنے کے لیے مشاورت شروع کردی ہے۔

مشاورتی عمل اسٹیک ہولڈرز، متعلقہ شہریوں، ماہرین کے ساتھ ہو گا اور ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق تصوراتی دستاویز اسٹیٹ بینک کے ساتھ شیئر کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے بعد ورچؤل کرنسی کی اہمیت اور حیثیت؟

عبدالرحیم نے کہا کہ ایس ای سی پی کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں پالیسی وضع کرنا ہے جو بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی اصطلاح 'بلاکچین اوپن لیجر' کے تحت قائم کیا گیا ہے جو ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس تک کوئی بھی کلائنٹ رسائی حاصل کرسکتا ہے تاہم چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ 'بلاکچین کے فوائد یہ ہیں کہ یہ ٹرانزیکشن کا وقت بچاتا ہے، لاگت سے زائد قیمتوں کو ختم کرتا ہے اور بیچ بچاؤ کرانے والے کی ضرورت کو ختم کرتا ہے جبکہ اس میں چھیڑ چھاڑ، فراڈ اور سائبر کرائم کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے'۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بٹ کوائن بھی بلاکچین پلیٹ فارم کا ایک پروڈکٹ ہے مگر یہ ایک کرپٹو کرنسی تھی جس کی وجہ سے اس وقت اس پر ملک میں پابندی عائد ہے۔

دریں اثناء ملک میں حکام کی توجہ 'سیکیورٹی ٹوکن' کو ریگولرائز کرنے میں مرکوز ہے جن کو یا تو حقیقی اثاثوں یا کریپٹوگرافک اثاثوں کی حمایت حاصل ہے۔