انٹرنیٹ سے محروم بچے ہفتے میں ایک دن اسکول آئیں گے، وزیر تعلیم خیبر پختونخوا

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2020

ای میل

وزیر تعلیم شہرام تراکئی پشاور میں پریس کانفرنس کر رہے تھے —  فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیر تعلیم شہرام تراکئی پشاور میں پریس کانفرنس کر رہے تھے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم شہرام تراکئی کا کہنا ہے کہ صوبے کے جن اسکولوں اور علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے وہاں ایک کلاس کے بچوں کو ہفتے میں صرف ایک دن اسکول بلایا جاسکتا ہے۔

پشاور میں اسکولوں کی بندش کے حوالے سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلے میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کچھ تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سردیوں کی چھٹیاں 24 دسمبر سے 10 جنوری تک ہی ہوں گی اور 26 نومبر سے 23 دسمبر تک 'ہوم لرننگ' یعنی گھر سے پڑھائی کی جائے گی جیسا کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے تمام تعلیمی ادارے 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ پلان کیا ہے کہ 'ہر کلاس کو ہفتے میں ایک دن اسکول بلایا جائے گا اس طرح ہر بچہ ہفتے میں صرف ایک دن اسکول آئے گا، اس ایک دن بچوں کو ہوم ورک دیا جائے گا اور جو پچھلا ہوم ورک ہوگا وہ چیک کیا جائے گا اور اگر بچوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہوگا تو وہ اسی دن اساتذہ سے پوچھ سکیں گے، جس کے بعد انہیں گھر واپس بھیج دیا جائے گا اور پھر وہ پورے ہفتے پڑھائی کریں گے'۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ بچوں اور اساتذہ کی صحت کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، اسی کو سامنے رکھتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'صوبہ خیبرپختونخوا میں ساڑھے 35 ہزار اسکول ہیں جن میں تقریباً ساڑھے 46 لاکھ بچے پڑھتے ہیں، ان میں زیادہ تر بچوں کے پاس آن لائن پڑھائی کی سہولت موجود نہیں ہے، زوم ایپلیکشن کی سہولت موجود نہیں ہے لہٰذا انہیں ہفتے میں ایک دن اسکول بلایا جاسکتا ہے، جن کے پاس آن لائن سہولت موجود ہو وہ بے شک بچوں کو نہ بلائیں'۔

مزید پڑھیں: اساتذہ کو ہفتے میں دو دن اسکول آنا ہوگا، وزیر تعلیم پنجاب

شہرام تراکئی نے کہا کہ 'ایسا اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ اسکولوں میں رش نہ لگے اور بچوں کی تعلیم کا وقت ضائع نہ ہو'۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق سرکاری و نجی دونوں تعلیمی اداروں پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں مثبت کیسز کی شرح 7 فیصد ہے لہٰذا ان فیصلوں میں وقت کے مطابق حالات کو دیکھتے ہوئے تبدیلیاں کی جاتی رہیں گی۔

امتحانات سے متعلق انہوں نے بتایا کہ بچوں کو جو ہوم ورک دیا جائے گا اس کی اسسمنٹ \ چیکنگ کے لیے ایک طریقہ کار طے کیا جائے گا اور اس پر نمبرز دیے جائیں گے جنہیں سالانہ امتحانات میں شامل کیا جائے گا، اب بچوں کو پروموٹ نہیں کیا جائے گا، دسمبر میں لیے جانے والے امتحانات کو آگے کی طرف بڑھا کر جنوری کے درمیان یا اختتام تک لے جایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے کی شرح دگنی ہوگئی

شہرام تراکئی نے کہا کہ 'وہ علاقے جہاں سردی کم ہے، دھوپ اور سازگار موسمی حالات ہیں وہاں کھلے مقام جیسے برآمدے یا کھلے صحن میں بچوں کو بٹھایا جاسکتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل جاری رہے گا تاکہ اساتذہ کی کمی کو جلد پورا کیا جاسکے جبکہ ان کی بھرتیوں کے لیے ہونے والے ٹیسٹ کے دوران سینٹرز میں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید یہ کہ ہاسٹلز میں دور دراز علاقوں کے رہائش پذیر بچوں میں سے صرف 3 فیصد کو ایس او پیز کے تحت رہنے کی اجازت ہوگی۔

صوبائی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم کے تمام اداروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم این سی او سی کی گائیڈلائنز کے مطابق چلیں گے اور یہ تمام فیصلے حتمی نہیں ہیں، روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور ان میں تبدیلی کی جاسکتی ہے جبکہ اسکول مکمل بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔