والدہ کے انتقال پر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پیرول پر رہا

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2020

ای میل

—فائل/فوٹو: اے ایف پی
—فائل/فوٹو: اے ایف پی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو ان کی والدہ کے انتقال پر 5 دن کے لیے کوٹ لکھپت جیل سے پیرول پر رہا کر دیا گیا۔

شہباز شریف اور حمزہ شہباز جیل سے رہائی کے بعد جاتی امرا روانہ ہوگئے جہاں کل ان کی والدہ کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: نواز اور شہباز شریف کی والدہ انتقال کرگئیں

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی کابینہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 5 روز کے لیے پیرول پر رہا کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد جیل حکام نے انہیں رہا کردیا۔

شہباز شریف کی والدہ کا جسد خاکی کل لاہور پہنچے گا اور جاتی امرا میں نماز جنازہ اور تدفین ہوگی۔

قبل ازیں شہباز شریف کی پیرول پر رہائی کے لیے کوٹ لکھپت جیل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔

شہباز شریف کا ذاتی پروٹوکول اسٹاف ان کو لینے کوٹ لکھپت جیل پہنچا تھا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی والدہ شمیم اختر 22 نومبر کو لندن میں انتقال کرگئی تھیں۔

بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطاء اللہ تارڑ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کی درخواست لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو جمع کرا دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف، حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کی درخواست

درخواست میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف کو اپنی والدہ اور حمزہ شہباز کو اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پیرول پر فوری طور پر رہا کیا جائے۔

درخواست میں دو ہفتے کی پیرول کی استدعا کی گئی تھی جبکہ پنجاب کی کابینہ نے صرف 5 دن کی منظوری دی ہے۔

عطااللہ تارڈ نے درخواست میں کہا تھا کہ 'شہباز شریف کی والدہ اور حمزہ شہباز کی دادی شمیم اختر کا لندن میں 22 نومبر کو انتقال ہوگیا ہے اور لاہور میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنسز میں جوڈیشل کسٹڈی میں لاہور کے کوٹ لکھپت جیل میں ہیں'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'ہماری روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں کو رشتہ داروں، دوستوں اور پارٹی کے لوگوں سے تعزیت وصول کرنی ہے اور اپنی ہر دلعزیز ماں/ دادی کی آخری رسومات ادا کرنی ہیں'۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ 'ماں کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے بڑا اور صدمہ کوئی نہیں، اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ اس غم میں شریک ہونے کے لیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو فوری طور پر رہا کیا جائے'۔

انہوں نے استدعا کی تھی کہ جیل قواعد 1978 کے تحت دونوں کو کم از کم دو ہفتے کے لیے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ آخری رسومات کی ادائیگی کرسکیں اور اپنے سوگوار خاندان کے ساتھ کچھ وقت گزار سکیں'۔

درخواست پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور انسپیکٹر جنرل جیل خانہ کو بھی ارسال کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 29 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد شہباز شریف کو گرفتار کیا تھا جبکہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو بھی اسی کیس میں 11 جون 2019 کو گرفتار کیا تھا۔